جمعیۃ بلاتفریق مذہب و ملت مہاراشٹر سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ اس طرح کے رفاہی اور امدادی کاموں میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتی اور مصیبت کی گھڑی میں وہ تمام ہندوستانیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑی رہتی ہے۔

مولانا ارشد مدنی تصویر / یو این آئی
مولانا ارشد مدنی تصویر / یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: جمعیۃ علمائے ہند نے مہاراشٹر میں مسلسل طوفانی بارش سے سیلاب کی تباہ کاری بھیانک شکل کے پیش نظر اپنی ٹیم کو راحت رسانی میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت مہاراشٹرمیں سیلاب سے آئی زبردست تباہی پر اپنے رنج و دکھ کا اظہارکرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے دی ہے۔ جمعیۃ نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اس سیلاب میں لاتعداد جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں بستی کی بستی پانی میں ڈوب چکی ہیں، مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک خاص طور پر فصلوں کو سیلاب کا پانی نگل چکا ہے۔ رتنا گیری اور رائے گڑھ کے علاوہ مہاڈ، چپلون اور اس کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہیں۔ ان تمام متاثرہ علاقوں میں جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی جانب سے ریلیف کا کام جنگی پیمانہ پر جاری ہے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے تعاون سے گیارہ بستیوں، لاڈولی، برواڈیہہ، برواڈیہہ واڑی، ساتھری گیتا، کس گاؤں، سواد، وادے، کاملا، ادلے گاؤں اور مہاڈشہر کے محلوں، پانساری محلہ، دیسمکھ محلہ، کناتاری محلہ، کارکھنڈ،کاکرتلہ، کوٹ علی، سریکرعلی، کاجل پورہ، دنگر، سالی واڑہ ناکا، نوانگر، ویلکم علی کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی بلاتفریق مذہب وملت تمام متاثرین کو ریلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پھوٹ پڑی ہیں، چنانچہ جمعیۃعلماء کی طرف سے ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں مختلف مقامات کے لئے الگ الگ تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ساری ٹیمیں پانچ رکنی ہیں اور بنیادی ضرورتوں کی دوائیں بھی ان کو مہیا کرائی گئی ہے۔ پہلی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شیخ فیضان زاہد، دوسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر جلیل احمد، تیسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ثناء اللہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کل 15/ ڈاکٹر ہیں جو لوگوں کو طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پانی میں غرق ہونے کی وجہ سے آٹو رکشا اور موٹر گاڑیاں ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔ چنانچہ ان کی مرمت اور قابل استعمال بنانے کے لئے موٹر میکینوں کا مع سامان پندرہ نفری وفد صوفی مشتاق احمد دھولیہ کی سربراہی میں مہاڈ علاقہ میں پہنچ چکا ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داران اور رضاکار شب و روز متاثرہ علاقوں میں ریلیف وامداد کے کاموں میں مصروف ہیں۔ جہاں جس چیز کی ضرورت ہے وہ انھیں پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔


مہاراشٹر میں سیلاب سے آئی زبردست تباہی پر اپنے رنج و دکھ کا اظہارکرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے اس مرتبہ مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں جو سیلاب آیا ہے وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃعلماء ہند متاثرین کی ہر سطح پر مدد کرے گی نیز انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چند برس قبل کیرالہ میں بھی ایک بھیانک سیلاب آیا تھا، لیکن مہاراشٹر اور بطور خاص کوکن کے علاقہ میں یہ جو سیلاب آیا ہے وہ ان سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔ لوگوں کے مکان اور دیگر املاک تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایک بڑی آبادی سیلاب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں بچا ہے، جمعیۃعلماء مہاراشٹر، جمعیۃعلماء ہند کے مقامی ذمہ داروں اور رضاکاروں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں امداداور ریلیف کا کام بڑے پیمانے پر کر رہی ہے۔ چونکہ حکومت اور لوگ اس وقت امداد پر لگے ہوئے ہیں، اس لئے اب آنے والے دنوں میں اس بات کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہوچکے ہیں، ان کی بازآبادکاری کی فکر کی جائے، کیونکہ یہ لوگ اپنا تمام اثاثہ سیلاب میں کھوچکے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ریلیف کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں سروے کراکر مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کی بنیاد پر بازآباکاری کا بھی کام کرے گی انشاء اللہ اور ریلیف کو آخری ضرورت مند تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کرے گی۔ خدا کی ذات سے توقع ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اس خدمت کو انجام تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔


آخر میں مولانا مدنی نے جمعیۃ علما ہند کے تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت دی کہ امداد و بازآبادکاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر کیا جائے۔ ہندو ہو عیسائی یا مسلمان تمام لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ جمعیۃ علما ہند اس طرح کے رفاہی اور امدادی کاموں میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتی اور مصیبت کی گھڑی میں وہ تمام ہندوستانیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑی رہتی ہے۔ جمعیۃ علما ہند ایک غیر سیاسی دینی جماعت ہے اور انسانی خدمت اس کا ابتدا سے طرہ امتیاز رہا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جو اصول و اہداف مقرر کئے ہیں جمعیۃ علما ہند ان پر بدستور عمل پیرا ہے۔

آخر میں مولانا مدنی نے جمعیۃ علما ہند کے تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت دی کہ امداد و بازآبادکاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر کیا جائے۔ ہندو ہو عیسائی یا مسلمان تمام لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ جمعیۃ علما ہند اس طرح کے رفاہی اور امدادی کاموں میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتی اور مصیبت کی گھڑی میں وہ تمام ہندوستانیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑی رہتی ہے۔ جمعیۃ علما ہند ایک غیر سیاسی دینی جماعت ہے اور انسانی خدمت اس کا ابتدا سے طرہ امتیاز رہا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جو اصول و اہداف مقرر کئے ہیں جمعیۃ علما ہند ان پر بدستور عمل پیرا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔