رنکو شرما قتل کے بعد حالات خراب، کرفیو لگا کر امن و امان قائم کیا جائے، جمعیتہ کا مطالبہ

محمد ابراہیم نے بتایا کہ غازی آباد یوپی سے آئی سادھوی ’ماں‘ کے ذریعہ یہاں مسلمانوں کو مارنے پیٹنے کے لیے ہندؤں کو للکاراگیا اور پولس کی موجودگی میں سادھوی نے ملزم کے گھر میں توڑ پھوڑ کی۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

دہلی کے منگول پوری علاقہ میں رنکو شرما قتل کے بعد فرقہ پرست عناصر کے ذریعہ کھلے عام اشتعال انگیزی، مسلم اقلیت کے خلاف اکثریتی طبقے کو بھڑکانے کے واقعات پر جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مرکزی وزارت داخلہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ جمعیۃ نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کیا ہے۔

جمعیۃ نے کہاکہ باہر سے آکر اشتعال انگیز نعرے اور مسلم اقلیت کے خلاف زہر آلود بیانات دینے والے عناصر پر فوری روک لگائی جائے اور علاقے میں مسلم اقلیت کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کرفیو لگاکر امن وامان کے قیام کی کوشش کی جائے۔

اس سلسلے میں آج جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں منگول پوری سے مقامی مسلمانوں کا ایک وفد بھی پہنچا تھا، جس نے مولانا مدنی سے ملاقات کی اور اپنے احوال بیان کیے۔ مولانا مدنی نے ان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند لگاتا ر یہاں کے حالات پر نگاہ رکھے ہوئی ہے اور امن وامان کے قیام کے لیے کوشاں ہے، جس طرح قتل کے واقعہ کو مذہبی رنگ دیا جارہاہے اور اس کا گنہ گار پوری مسلم قوم کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس پر سرکار اور پولس انتظامیہ کو سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سب کو رنکو شرما کے قتل پر دکھ ہے اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ غم میں شریک ہیں، لیکن ساتھ ہی اس کی آڑ میں فتنہ برپا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

جمعیۃ علماء ہند کے دفتر آنے والے وفد کے ذمہ دار محمد ابراہیم نے بتایا کہ غازی آباد یوپی سے آئی سادھوی ’ماں‘ کے ذریعہ یہاں مسلمانوں کو مارنے پیٹنے کے لیے ہندؤں کو للکاراگیا اور پولس کی موجودگی میں سادھوی نے ملزم کے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور مسلمانوں کو منفی معنی میں ’جہادی‘ بتایا اور ان کو ختم کرنے کی دھمکی دی گئی۔اس کے علاوہ لگاتار بھیڑ بنا کر دہلی اوریہاں تک کہ دہلی کے باہر سے لوگوں کا مجمع منگولپوری میں جمع ہورہا ہے اور مختلف مذہبی نعرے لگار کر مسلمانوں کو دھمکی دے رہا ہے۔ایسے حالات میں وہاں رہنے و الے مسلم اقلیت میں کافی خوف وہراس ہے اور وہ شمال مشرقی دہلی کی طرح اس علاقے میں فساد اور قتل عام کا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔

ملاقات میں جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری اور لیگل معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ،مولانا غیور قاسمی اورعظیم اللہ صدیقی بھی موجود تھے۔اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ممکنہ قانونی اقدامات کا بھی فیصلہ ہوا اور ساتھ ہی مقامی وفد کو مشورہ دیا گیا کہ امن وامان کی بحالی کے لیے منگول پوری میں رہنے والے سبھی مذاہب کے ذمہ داروں کی امن میٹنگ منعقد کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Feb 2021, 8:11 AM