راجیہ سبھا: کانگریس کی مخالفت کے بعد جلیانوالہ باغ ٹرسٹ بل مؤخر

ایوان میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آج اس بل پر بحث کا ماحول نہیں ہے، غم کی فضا میں ایوان سے غلط پیغام نہیں جانا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: حزب اختلاف پارٹی کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے جلیانوالہ باغ قومی یادگار (ترمیمی) بل آج راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جاسکا۔ لوک سبھا نے اس بل کو گزشتہ 2 اگست کو منظور کیا تھا لیکن اب راجیہ سبھا کی غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونے کی وجہ سے یہ بل ملتوی ہو گیا۔ اس بل کو راجیہ سبھا کے بدھ کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ممبران بخوبی واقف ہیں کہ سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کا انتقال ہوگیا ہے اور باقاعدہ قانون سازی کا عمل اور متفقہ بل منظور ہونے کے بعد ان کے اعزاز میں ایوان کی کارروائی ملتوی کردی جائے گی، ویسے بھی آج اجلاس کا آخری دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس سال جلیانوالہ باغ واقعے کی صد سالہ تقریبات منا رہا ہے اور پارلیمانی امور کے وزیر نے انہیں بتایا ہے کہ ایوان جلیانوالہ باغ ٹرسٹ سے متعلق بل کو بحث کے بغیر منظور کرنے کے لئے تیار ہے۔

نائیڈو نے وزیر ثقافتی امور پرہلاد سنگھ پٹیل سے بل پیش کرنے کو کہا۔ اس بل میں یہ التزام ہے کہ اب کانگریس کے صدر اس ٹرسٹ کا بربنائے عہدہ رکن نہیں رہیں گے۔ پٹیل کے اس بل کو پیش کرنے کے بعد، ایوان میں کانگریس کے نائب رہنما، آنند شرما نے کہا کہ سشما سوراج کے انتقال سے پورا ایوان غمگین ہے اور ایسی صورتحال میں وہ نہیں چاہتے کہ ایوان میں تلخی کا ماحول پیدا ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس نے ملک کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور جلیانوالا باغ ٹرسٹ کا معاملہ ملک کے جذبات سے جڑا ہے۔ اس وقت کی کانگریس کی خدمات سچ اور تاریخی حقیقت ہے جس کی معلومات موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ہونی چاہیے، لہذا اس بل پر بحث کی جانی چاہیے۔ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرسٹ کے بورڈ میں کوئی ردوبدل نہ کرے۔ تحریک آزادی کی رہنمائی کرنے والی پارٹی کو اس ٹرسٹ سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آج اس بل پر بحث کا ماحول نہیں ہے۔ غم کی فضا میں ایوان سے غلط پیغام نہیں جانا چاہیے اور وہ درخواست کرتے ہیں کہ آئندہ اجلاس کے لئے اس بل کو مؤخر کر دیا جائے۔

اس پر ایوان کے قائد تھاورچند گہلوت، پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ جلیانوالا باغ کا صد سالہ سال ہے لہذا اس بل کو منظور کیا جانا چاہیے اور اس میں کوئی بڑی ترمیم نہیں ہے۔ صرف تین ترمیم ہیں۔ حکومت اگلے اجلاس میں اس مسئلے پر بحث کرانے کے لئے تیار ہے۔

چیئرمین نے دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں سے بھی اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کو کہا۔ ایس پی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ ایسے ماحول میں ایوان میں بحث اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کے ممبران ایک جیسے ہوں تو اچھا ہے۔ ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ بحث اچھی نہیں ہے، یا تو بل منظور کرلیا جائے یا اسے اگلے اجلاس کے لئے مؤخر کردیا جائے۔

ٹی آر ایس کے کیشیو راؤ نے بھی کہا کہ اسے ملتوی کردیا جانا چاہیے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے نونیت کرشنن نے بل کو بغیر بحث کے منظور کرنے کی بات کہی۔ ڈی ایم کے کے ٹی کے ایس انیلیگووان نے بھی اس بل کو مؤخر کرنے کے لئے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس کے بعد اس بل پر بحث نہیں ہوسکی اور اسے مؤخر کر دیا گیا۔

Published: 7 Aug 2019, 6:10 PM