فلاحی اسکیموں کے فائدے کے لیے آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی؟ جے رام رمیش نے کہا- ’ووٹ چوری تو ٹریلر ہے‘

جے رام رمیش نے پوچھا ہے کہ کیا فلاحی اسکیموں میں آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی لازمی کرنے کا فیصلہ سرکاری پالیسی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے مستحق افراد مزید محروم ہو سکتے ہیں

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ کے ان بیانات پر سوال اٹھایا ہے جن میں انہوں نے فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کی شناخت اور ادائیگی کے لیے آدھار کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) اور بایومیٹرک تصدیق استعمال کرنے کی بات کہی۔ رمیش نے ایکس پر پوچھا کہ کیا یہ مودی حکومت کی باضابطہ پالیسی ہے، یا وزیر کا بیان کسی مجوزہ انتظام سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس تبدیلی کے دائرے، متعلقہ اسکیموں اور نفاذ کے وقت پر حکومت نے تاحال واضح تفصیل جاری نہیں کی۔

رمیش کے مطابق، اگر آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی کو فلاحی فوائد کی بنیاد بنایا گیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ آدھار کو اس بنیادی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کے استعمال کے طریقۂ کار پر پہلے ہی جائز خدشات موجود رہے ہیں، کیونکہ لاکھوں افراد سماجی بہبود اور سماجی تحفظ کی اسکیموں سے محروم ہوئے ہیں۔ ان کا اندیشہ ہے کہ اب اگر ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کو مستفیدین کی شناخت سے جوڑ دیا گیا تو مزید بڑی تعداد میں لوگ سرکاری فوائد سے باہر ہو سکتے ہیں۔


یہ خدشہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونے پر تنازعہ جاری ہے۔ رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر فہرست میں نہ ہو یا ایس آئی آر کے نتیجے میں خارج ہو جائے تو ووٹر آئی ڈی پر منحصر فلاحی نظام اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی نعرے کے انداز میں کہا، ’’ووٹ چوری تو بس ٹریلر ہے؛ پوری فلم حق و حقوق کی چوری ہے۔‘‘

وزارتِ پنچایتی راج کے دائرۂ کار سے متعلق بھی سوال اٹھا ہے، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اس وزارت کی ایسی اسکیم نہیں جس میں براہِ راست کسی فرد کے بینک کھاتے میں رقم منتقل کی جاتی ہو، جبکہ مرکزی حکومت کی متعدد دوسری اسکیموں میں آدھار سے منسلک ادائیگیوں کا استعمال ہوتا ہے۔

راجیو رنجن سنگھ نے 30 اکتوبر کو نئی دہلی میں ایک ورکشاپ کے دوران کہا تھا کہ مستفیدین کو ادائیگی کے لیے آدھار بنیادی شناخت نہیں رہے گا اور ان کی بایومیٹرک تصدیق کے ساتھ ای پی آئی سی نمبر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے 3 نومبر کو گنگٹوک میں بھی یہ بات دہرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھار کارڈ بنوانے کی سہولت اب ہر علاقے میں دستیاب ہے اور کارڈ چند منٹ میں بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے اس اعلان کو نافذ کرنے کا باضابطہ حکم یا متاثرہ اسکیموں کی فہرست سامنے نہیں آئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔