جے رام رمیش نے پھر کیا دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ، تعلیمی بحران پر بحث کا مطالبہ

جے رام رمیش نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر پیپر لیک، مبینہ کرپشن اور تعلیمی اداروں میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے استعفے اور پارلیمنٹ میں فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن راجیہ سبھا جے رام رمیش نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر قومی امتحانی نظام، تعلیمی اداروں میں مبینہ کرپشن اور انتظامی ناکامیوں کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کے خلاف اٹھنے والی آواز کسی ایک واقعہ کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے دورِ وزارت میں سامنے آنے والی مسلسل ناکامیوں کا عکاس ہے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ دھرمیندر پردھان نے کروڑوں طلبہ کی تعلیمی امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ استعفیٰ دینے کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی پوزیشن کا دفاع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) گزشتہ چند برسوں سے مسلسل تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ سال 2024 میں مختلف امتحانات کے پیپر لیک ہونے اور امتحانات کی منسوخی کے واقعات سامنے آئے، جبکہ 2026 میں نیٹ-یو جی اور یو جی سی نیٹ سوشیالوجی کے پیپر لیک ہونے کے معاملات بھی منظر عام پر آئے۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم نے پیپر لیک کے واقعات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا۔


کانگریس رہنما نے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ سسٹم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس معاملے میں تشکیل دیے گئے یک رکنی کمیشن کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔

انہوں نے ملک کی مختلف مرکزی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ تقرریاں تعلیمی قابلیت کے بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی سمیت متعدد اداروں میں طلبہ اور اساتذہ نے انتظامی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔

جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی)، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز اور انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ سمیت کئی ادارے بھی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔

دریں اثنا، اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قاعدہ 267 کے تحت ایوان کی کارروائی معطل کر کے متعدد معاملات پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان معاملات میں طلبہ کے پرامن احتجاج پر پولیس کی کارروائی، اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، تعلیمی بحران پر حکومت کی خاموشی اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت راجیہ سبھا میں ان اہم معاملات پر بحث کرانے سے مسلسل انکار کر رہی ہے، جس کے باعث ایوان میں تعطل کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔