چین سے متعلق حکومتی پالیسی پر جے رام رمیش کا حملہ، مودی حکومت پر مسلسل جھکنے کا الزام
جے رام رمیش نے مودی حکومت پر چین کے سامنے مسلسل جھکنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے فیصلے، بڑھتا تجارتی خسارہ اور سرحدی معاملات قومی مفادات کے خلاف ہیں

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر چین کے حوالے سے سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت مسلسل چین کے سامنے جھک رہی ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ کے ساتھ انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے جنوری میں ایک استثنا دیتے ہوئے سرکاری بجلی منصوبوں کے لیے چین سے منسلک 4 کمپنیوں کو سازوسامان فراہم کرنے کی اجازت دی تھی۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ مودی حکومت کی چین کے حوالے سے ’مرحلہ وار پسپائی‘ اس وقت بھی جاری ہے، جب ہندوستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے ملک کی صنعت، خاص طور پر چھوٹی، خرد اور درمیانی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اروناچل پردیش سے متعلق چین کی اشتعال انگیز سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈوگ میں دنیا کے سب سے بڑے آبی بجلی منصوبے پر کام جاری ہے، جس سے دریائے برہم پترا کے حوالے سے ہندوستان کے آبی تحفظ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کانگریس رہنما نے مشرقی لداخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی علاقوں میں ہندوستان کے روایتی گشت اور چرواہوں کے حقوق بھی ترک کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیس جون 2020 کو لداخ میں ہندوستانی فوج کے بیس جوانوں کی شہادت کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے انیس جون 2020 کو عوامی طور پر چین کو کلین چٹ دے دی تھی۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی کارروائیوں میں چین کے اہم کردار کا اعتراف فوج کے نائب سربراہ بھی کر چکے ہیں اور اس حوالے سے دستاویزی شواہد بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود چین کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں تبدیلی نظر نہیں آ رہی اور ان کے بقول چین کے سامنے جھکنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ واضح رہے کہ جے رام رمیش نے اپنے الزامات کے ساتھ دی ہندو میں شائع ہونے والی خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
