جے رام رمیش کا مودی حکومت پر سخت حملہ، حد بندی بل پر دھوکہ دہی کا الزام

جے رام رمیش نے وزیر اعظم پر حد بندی کے معاملے میں عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق نئے بل جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کمزور کریں گے اور وعدے پورے نہیں کیے گئے

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے حد بندی کے مجوزہ بلوں کو عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت کی پہچان یہ بن گئی ہے کہ وہ رہنما کم اور گمراہ کن زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مسلسل ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور حد بندی جیسے اہم قومی مسئلے پر بھی عوام کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے لیے جو بل گردش میں لائے گئے ہیں وہ وزیر اعظم کی جانب سے پہلے دی گئی یقین دہانیوں کے بالکل برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ تاثر دیا تھا کہ لوک سبھا میں تمام ریاستوں کی نشستوں میں یکساں اور متناسب اضافہ کیا جائے گا، مگر موجودہ تجاویز میں ایسا کوئی واضح بندوبست نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں جنوبی ریاستوں کے ساتھ ساتھ شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان کی چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کمزور ہو جائے گی۔


انہوں نے مزید کہا کہ اگر حد بندی اسی انداز میں نافذ کی گئی تو یہ وفاقی ڈھانچے کے توازن کو متاثر کرے گی اور بعض ریاستیں اپنی آبادی اور کردار کے باوجود کمزور سیاسی حیثیت کی حامل ہو جائیں گی۔ جے رام رمیش کے مطابق وزیر اعظم اور ان کے رفقا نے جو وعدے کیے تھے، وہ اب عملی طور پر پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔

کانگریس رہنما نے وزیر اعظم کی نیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مدبر کی طرح قومی مفاد کو ترجیح دینے کے بجائے محض اقتدار کے حصول کی سیاست میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی جیسے حساس مسئلے پر وسیع اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری تھا، مگر حکومت نے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جے رام رمیش نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ یہ بل ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی یوم پیدائش کے موقع پر منظر عام پر لائے گئے۔ ان کے مطابق یہ اقدام امبیڈکر کے نظریات اور ان کی وراثت کے خلاف ہے، کیونکہ انہوں نے آئین ساز اسمبلی میں آئینی اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ موجودہ حالات امبیڈکر کی اس تنبیہ کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر حکومت آئینی اصولوں سے ہٹ جائے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت حد بندی کے معاملے پر شفافیت اختیار کرے، تمام ریاستوں کے خدشات دور کرے اور ایسے فیصلے کرے جو پورے ملک کے مفاد میں ہوں، نہ کہ کسی خاص سیاسی فائدے کے لیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔