جگن ناتھ یاترا، احکامات میں ترمیم پرغور کرنے کے لئے سپریم کورٹ تیار

سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ یہ رتھ یاترا صدیوں پرانی ہے اور اسے روکنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں سابقہ ​​حکم میں کچھ شرائط اور ہدایات کے ساتھ ترمیم کی جانی چاہیے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ آج اڈیشہ کے شہر پوری میں تاریخی جگناتھ یاترا پر پابندی سے متعلق احکامات میں ترمیم کی درخواست پرغور کرے گا۔ مرکز کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے جسٹس ارون کمار مشرا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملہ کا خصوصی ذکر کیا اور کچھ پابندیوں کے ساتھ رتھ یاترا کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ یہ رتھ یاترا صدیوں پرانی ہے اور اسے روکنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سابقہ حکم میں کچھ شرائط اور ہدایات کے ساتھ ترمیم کی جانی چاہیے، مثال کے طور پر رتھ یاترا میں شامل ہونے کے لئے مندر میں کام کرنے والے ان لوگوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے جو کورونا نگیٹو ہوں۔


اوڈیشہ حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے نے بھی مرکز کی درخواست کی حمایت کی۔ اس کے بعد جسٹس مشرا نے کہا کہ وہ تمام معاملات کی سماعت کے بعد احکامات میں ترمیم کے معاملے پر غور کریں گے۔ دریں اثنا معاملہ میں مداخلت کی کچھ درخواستیں جسٹس ایس روندر بھٹ کے سامنے چیمبر میں سماعت کے لئے درج ہیں۔

یاد رہے کہ اس قبل چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی صدارت والی بنچ نے غیر سرکاری تنظیم اوڈیشہ وکاس پریشد کی عرضی پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت کرتے ہوئے 23 جون کو ہونے والی رتھ یاترا پر روک لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے کہا ’’وبا کے وقت اس طرح کی یاترا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عوامی صحت اور شہری سلامتی کو ذہن میں رکھ کر اس برس یاترا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ اگر انہوں نے رتھ یاترا کی اجازت دے دی تو اس کے لئے بھگوان جگن ناتھ کبھی معاف نہیں کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔