تبلیغی جماعت نے حکومت کی ناکامی کا کیا انکشاف، بار بار گزارش کے بعد بھی نہیں ملی مدد

زبردست تنقید کا سامنا کر رہے تبلیغی جماعت مرکز نے ایک پریس نوٹ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ سینکڑوں افراد مرکز میں حکومت اور دہلی پولس کی بے توجہی کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز کے جلسہ میں شامل ہوئے تقریباً 35 افراد میں اب تک کورونا پازیٹو کی تصدیق ہو چکی ہے اور 9 افراد اس مہلک وائرس کی وجہ سے جاںبحق بھی ہو چکے ہیں۔ اس پورے معاملہ میں تبلیغی جماعت لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے، حالانکہ تبلیغی جماعت نے لگائے جا رہے سبھی الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مرکز میں جمع لوگوں کے لیے ذمہ دار حکومت اور مقامی انتظامیہ ہے کیونکہ بار بار گزارش کے باوجود انھیں مدد نہیں دی گئی۔

دراصل مرکز میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا تھا جس میں ملک و بیرون ممالک کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ ہندوستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریباً 1500 لوگ مرکز میں پھنس گئے اور نکل نہیں پائے۔ تبلیغی جماعت کے ذریعہ ایک پریس نوٹ جاری کر جانکاری دی گئی ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کی گئیں لیکن انتظامیہ سے تعاون نہیں ملا جس کی وجہ سے مجبوراً سبھی کو مرکز میں ہی رہنا پڑا۔

پریس نوٹ میں تبلیغی جماعت نے بتایا ہے کہ 22 مارچ کو جب پی ایم مودی نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تو فوری اثر سے پروگرام کو روک دیا گیا۔ چونکہ ریل سروسز نے بھی اچانک اپنی سبھی خدمات روکنے کا اعلان کر دیا تھا اس لیے مہمانوں کا بڑا گروپ اپنے گھروں کو لوٹنے میں معذور تھا۔ تبلیغی جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے اچانک 23 مارچ 6 بجے صبح سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جس کے بعد جو لوگ روڈ ٹرانسپورٹ کا استعمال کر گھر واپس جانا چاہتے تھے وہ مرکز میں ہی پھنس گئے۔ پھر اگلے دن پی ایم مودی نے پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ اس طرح نکلنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے لوگ مرکز میں ہی پھنسے رہ گئے۔

تبلیغی جماعت نے پریس نوٹ میں بتایا کہ 24 مارچ 2020 کو حضرت نظام الدین پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او کا اچانک ایک نوٹس آتا ہے اور مرکز کے احاطہ کو بند کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں مرکز لکھتا ہے کہ ایک دن پہلے ہی تقریباً 1500 لوگوں کو مرکز روانہ کر چکا ہے اور احاطہ خالی کرنے کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی مرکز نے یہ بھی لکھا کہ تقریباً 1000 افراد دوسری ریاستوں کے مرکز میں موجود تھے جن کی روانگی کے لیے گاڑی پاس مہیا کیے جانے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ میڈیا میں 25 مارچ کو مرکز کے ذریعہ لکھا گیا ایک خط پہلے ہی سامنے آ چکا ہے جس میں لاک ڈاؤن کے دوران مرکز میں پھنسے لوگوں کو ان کے گھر بھیجنے کے لیے گاڑی پاس مہیا کرانے کی گزارش کی گئی تھی۔ یہ خط نظام الدین تھانہ کے ایس ایچ او کے نام لکھا گیا تھا۔ لیکن اس پر فوری کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد مرکز میں ہی پھنسے رہے۔

مرکز نے اپنے اوپر لگ رہے الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور ان گاڑیوں کی فہرست دہلی پولس کو بھی دی گئی تھی تاکہ پاس مل سکیں۔ لیکن اس کا کوئی جواب دہلی پولس کی جانب سے نہیں آیا۔ اس پورے معاملہ میں دہلی پولس کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے، لیکن کچھ لوگ مرکز کا نام لے کر ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔