عبوری کی جگہ مکمل بجٹ پیش کر کے آئینی روایت کو کچل ڈالا: چدامبرم

اب تک کے سب سے طویل عبوری بجٹ خطاب میں کہیں روزگار اور تعلیم کا ذکر نہیں ۔ کانگریس نے بجٹ خطاب کو انتخابی خطاب قرار دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مرکز کے جزوقتی وزیر خزانہ پیوش گویل کے بجٹ خطاب کو انتخابی خطاب سے تعبیر کیا ہے ۔جزوقتی وزیر خزانہ نے عبوری بجٹ کو مکمل بجٹ کی طرح نہ صرف پیش کیا بلکہ عبوری بجٹ کا اب تک کا سب سے طویل خطاب کیا۔

چدمبرم نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس حکومت کو یہ اعتماد ہوتا کہ وہ واپس اقتدار میں آ جائے گی وہ کم از کم جمہوری اقدار اور روایت کا پاس رکھتی ۔ اب چونکہ یہ شیشہ کی طرح صاف ہو گیا ہے کہ اس حکومت کو واپس آنے کی کوئی امید نہیں ہے، اس لئے گھبراہٹ میں یہ سارے قدم اٹھاتے ہوئے آئینی روایات کے خلاف کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں روزگار اور تعلیم کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ حکومت جب انکم ٹیکس کی شرحوں کی بات کر سکتی ہے ، حکومت جب کسانوں کو اور مڈل کلاس کو راحت دینے کی اس عبوری بجٹ میں بات کر سکتی ہے تو پھر وہ نوجوانوں کے روزگار اور تعلیم کی کیوں بات نہیں کر سکتی ۔ وزیر خزانہ نے تعلیمی شعبہ اور بے روزگاری کے تعلق سے کوئی بات نہیں کی۔

مزدوروں کو تین ہزار روپے ماہانہ دینے کی جو بات بجٹ میں کہی گئی ہے اس پر چدمبرم نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں سے اس کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان اعلانات سے قومی معیشت بری طرح متاثر ہو گی ۔ دفاعی بجٹ کے بڑھائے جانے پر چدمبرم نے کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہر بجٹ سیشن کے دوران دفاع کے بجٹ میں دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔

غریب کسانوں کو سالانہ چھ ہزار روپے دینے کے اعلان کو چدمبرم نے بے معنی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کر کے شہری کسانوں اور جن کسانوں کے پاس دو ہیکٹیر سے زیادہ زمین ہے ان کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے غریب کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس زمیندار کو فائدہ ہوگا جو سامنے نہیں ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ کانگریس کی کم از کم آمدنی اسکیم سے سبھی غریبوں کو فائدہ پہنچے گا‘‘۔ کانگریس کے ایک کارکن نے بجٹ پر اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ تجاویز دراصل مودی بچاؤ یوجنا زیادہ لگتی ہے، لیکن عوام اب بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ ان جھانسوں میں نہیں آ نے والےہیں۔