’ایف آئی آر درج ہونے میں 30 دن اور قائد حزب اختلاف کے 7 گھنٹے کے دھرنے کا وقت لگا‘، پیلیٹ گن معاملے پر چدمبرم کا اہم بیان
پی چدمبرم نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’متاثرہ شخص ساحل لوچب کو ان کی ثابت قدمی پر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو ستیہ گرہ کی طاقت ثابت کرنے پر مبارکباد۔‘‘

جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی میں پیلیٹ گن سے زخمی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ساحل لوچب کی شکایت پر دہلی پولیس نے 30 دن بعد ایف آئی آر درج کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پی چدمبرم نے پیلیٹ گن سے زخمی ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے میں ہوئی تاخیر کو لے کر دہلی پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے میں 30 دن لگ گئے اور اس کے لیے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو 7 گھنٹے تک دھرنے پر بیٹھنا پڑا۔
کانگریس راجیہ سبھا رکن پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’متاثرہ شخص کی شکایت پر دہلی میں ایف آئی آر درج ہونے میں 30 دن اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کے 7 گھنٹے کے دھرنے کا وقت لگا۔ یہ تب ہوا ہے جب سپریم کورٹ کا قانون کہتا ہے کہ ہر شکایت پر فوراً ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’متاثرہ شخص ساحل لوچب کو ان کی ثابت قدمی پر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو ستیہ گرہ کی طاقت ثابت کرنے پر مبارکباد۔‘‘
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے جمعہ (21 اگست) کو پیلیٹ گن سے زخمی ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ یہ کارروائی پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس تھانے کے باہر راہل گاندھی کے دھرنے کے بعد ہوئی۔ راہل گاندھی نے ساحل لوچاب کی شکایت پر کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ احتجاج کیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 118 اور 125 کے تحت کیس درج کیا ہے۔ دفعہ 118 خطرناک ہتھیار یا ذرائع کے ذریعے جان بوجھ کر چوٹ یا شدید چوٹ پہنچانے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 125 ایسے عمل سے متعلق ہے، جن سے کسی شخص کی زندگی یا ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
متاثرہ شخص ساحل لوچب نے دعویٰ کیا تھا کہ 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں پیلیٹ گن سے فائرنگ کے دوران وہ زخمی ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے کے باوجود ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی تھی۔ لوچب کے مطابق ان کا علاج ایمس میں ہوا اور ان کی سرجری بھی کی گئی، لیکن اس کے باوجود ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے پولیس سے واقعے کی تحقیقات کر کے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے دھرنے کے دوران ایمس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ساحل کے جسم میں 200 سے زیادہ چھرے موجود ہیں۔ ان کے مطابق کچھ چھرے آنکھ میں بھی لگے ہیں جبکہ کچھ دل کے قریب موجود ہیں، جنہیں نکالا نہیں جا سکتا۔ راہل گاندھی نے دہلی پولیس کے اس موقف پر سوال اٹھایا تھا کہ پولیس نے پیلٹ نہیں چلائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پولیس نے نہیں چلائے تو پھر کسی نے تو چلائے ہوں گے اور اسی لیے معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات ہونی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
