راہل گاندھی کے دھرنے کے بعد جھکی دہلی پولیس، پیلٹ گن معاملے میں ایف آئی آر درج

راہل گاندھی کے دھرنے کے بعد دہلی پولیس نے جنتر منتر پر ساحل لوچب کے زخمی ہونے کے معاملے میں بی این ایس کی دفعات 118 اور 125 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی

<div class="paragraphs"><p>قومی آواز / وپن</p></div>
i

نئی دہلی: جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال سے طالب علم ساحل لوچب کے زخمی ہونے کے معاملے میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ یہ کارروائی کانگریس کے سینئر رہنماؤں، بالخصوص لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے کے بعد ہوئی۔ راہل گاندھی نے پولیس سے واضح طور پر کہا تھا کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی، وہ وہاں سے نہیں اٹھیں گے۔

پولیس نے معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 118 اور دفعہ 125 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ دفعہ 118 خطرناک ہتھیار یا ذریعے سے جان بوجھ کر چوٹ یا شدید چوٹ پہنچانے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 125 ایسے عمل سے متعلق ہے جس سے کسی دوسرے شخص کی زندگی یا ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد راہل گاندھی نے اسے انصاف کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔

راہل گاندھی جمعہ کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے ڈی سی پی دفتر پہنچے تھے۔ وہ حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والی دہلی پولیس کی جوائنٹ کمشنر نُپور پرساد سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ راہل گاندھی نے ساحل لوچب کے معاملے سمیت متعدد شکایات پولیس حکام کے سامنے رکھیں اور ان پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ فوری طور پر کوئی فیصلہ نہ ہونے کے بعد وہ پولیس اسٹیشن سے باہر نکلے اور وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔

دھرنے کے دوران راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج ہونا ضروری ہے۔ ان کے ساتھ ساحل لوچب بھی موجود تھے، جو 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہوئے تھے۔ راہل گاندھی کے دھرنے کے بعد کانگریس کے دیگر رہنما بھی وہاں پہنچ گئے، جبکہ پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر موجود رہی۔


کانگریس اس معاملے میں مسلسل سوال اٹھاتی رہی ہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ پارٹی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس سے اس کا جواب طلب کیا تھا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ساحل لوچب اور ان کی والدہ مسلسل ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن پولیس نے ان کی شکایت پر بروقت کارروائی نہیں کی۔

ساحل لوچب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 20 جولائی کو کناٹ پلیس کے قریب ان پر پیلٹ گن سے حملہ ہوا۔ واقعے کے بعد انہیں لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ساحل کے مطابق ایمس میں ان کی دو سرجری ہوئیں، لیکن اس کے باوجود متاثرہ آنکھ سے انہیں صاف دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ 14 اگست کو انہوں نے سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کو دی تھی، تاہم اس وقت تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔

راہل گاندھی نے دھرنے کے دوران ایمس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ساحل کے جسم میں 200 سے زیادہ چھرے موجود ہیں۔ ان کے مطابق کچھ چھرے آنکھ میں بھی لگے ہیں جبکہ کچھ دل کے قریب موجود ہیں، جنہیں نکالا نہیں جا سکتا۔ راہل گاندھی نے دہلی پولیس کے اس موقف پر سوال اٹھایا تھا کہ پولیس نے پیلٹ نہیں چلائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پولیس نے نہیں چلائے تو پھر کسی نے تو چلائے ہوں گے اور اسی لیے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات ہونی چاہیے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی کہا تھا کہ پارٹی کا مطالبہ بالکل سیدھا ہے کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور اس کا نمبر فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب تک نئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنما پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن سے نہیں ہٹیں گے۔


اگرچہ پولیس نے اب ایف آئی آر درج کرلی ہے، لیکن اس معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پولیس نے پہلے شکایت وصول کرکے معاملے کی تفتیش کرائم برانچ کو سونپی تھی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی ہائی پاورڈ کمیٹی کی رپورٹ کا بھی انتظار کیا جا رہا تھا۔

اس معاملے میں کانگریس کے کئی سینئر رہنما بھی راہل گاندھی کے احتجاج میں شامل ہوئے۔ اس سے قبل راہل گاندھی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج کر چکے ہیں، جہاں انہیں حراست میں لے کر چھترسال اسٹیڈیم منتقل کیا گیا تھا۔ جمعہ کے احتجاج میں رندیپ سرجے والا، کُماری سیلجا اور دیگر کانگریس رہنما بھی موقع پر پہنچے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔