میڈیا کے کچھ ساتھیوں کے ذریعہ اپوزیشن کی آواز دبانا افسوسناک ہے: راہل

راہل گاندھی نے کہا کہ جو صحافی اپوزیشن کے نقطہ نظر کو دباتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل کو دبانے کا کام کرتے ہیں، لیکن وہ جس کا چہرہ دکھاتے رہتے ہیں،وہ کبھی ان کی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔

راہل گاندھی، تصویر ویپن
راہل گاندھی، تصویر ویپن
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ میڈیا میں کچھ لوگ صرف ایک شخص کا چہرہ دکھاتے ہیں اور اپوزیشن کی آواز کو دباتے ہیں۔ اگر ان صحافیوں کے ساتھ اگر کبھی ناانصافی ہوگی تووہ ان کی آواز بن کر ان کے شانہ بشانہ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جو صحافی اپوزیشن کے نقطہ نظر کو دباتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل کو دبانے کا کام کرتے ہیں، لیکن وہ جس کا چہرہ دکھاتے رہتے ہیں، وہ کبھی ان کی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ میں کہا کہ "افسوس! میڈیا کے بہت سے ساتھی صرف ایک شخص کا چہرہ دکھاتے ہیں، اپوزیشن کی آواز کو دباتے ہیں- اسے عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔ کیا اس شخص نے کبھی آپ کے لیے آواز اٹھائی؟ تمہیں جو صحیح لگے وہ کرو، لیکن اگر تمہارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو میں پہلے بھی تمہارے ساتھ تھا، آئندہ بھی تمہارے ساتھ رہوں گا۔


اس کے ساتھ انہوں نے پوری دنیا کے صحافیوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک امریکی تنظیم کی رپورٹ کی کلپنگ بھی پوسٹ کی ہے، جس میں ہندوستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2021 میں ہندوستان میں چار صحافی ہلاک اور ان پر 228 حملے کیے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔