کہا جاتا ہے کہ سیاسی لیڈران کو زمین سے جڑا ہونا چاہیے، لیکن وزیر اعلیٰ موہن یادو تو ’زمینوں‘ سے جڑ گئے: کانگریس
کانگریس لیڈر پروین پاٹھک کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ملک کی عوام کو جو خواب دکھائے تھے، وہ ایک ایک کر کے ٹوٹ رہے ہیں اور ملک کی عظیم تاریخ کو داغدار کیا جا رہا ہے۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق رکن اسمبلی پروین پاٹھک نے ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو پر شدید حملہ کرتے ہوئے ریاست میں مبینہ بدعنوانی، زمین گھوٹالوں اور رام مندر چندہ چوری کے معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں بی جے پی کی حکومتوں نے مدھیہ پردیش کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پروین پاٹھک نے کہا کہ جس مدھیہ پردیش کو کبھی ایک خوشحال اور باوقار ریاست سمجھا جاتا تھا، بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ نے گزشتہ 20 برسوں میں اسے بدعنوانی کی علامت بنا دیا ہے۔ مطابق مدھیہ پردیش صرف راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی تجربہ گاہ نہیں بلکہ بدعنوانی کی بھی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کا نوجوان پیپر لیک اور مختلف گھوٹالوں کا شکار ہے، لیکن اس سلسلے کی ابتدا مدھیہ پردیش کے بدنام زمانہ ویاپم گھوٹالے سے ہوئی تھی، جس نے ریاست کی ایک پوری نسل کا مستقبل تباہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی مسلسل نوجوانوں کے مسائل اٹھاتے رہے ہیں اور جب بھی وہ کسی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، کچھ ہی عرصہ بعد اس کی حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے۔
رام مندر سے متعلق حالیہ تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے پروین پاٹھک نے کہا کہ پہلے یہ سنا جاتا تھا کہ سیاسی پارٹیاں چندے سے چلتی ہیں، لیکن پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ ایک سیاسی پارٹی نے چندہ ہی کھا لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ ’رام راج‘ کی بات کرتے تھے، وہی رام مندر کا چندہ کھا گئے، اور جو خود کو رام کا سب سے بڑا علمبردار کہتے تھے، وہ آج چندہ چوری کے معاملے پر مکمل خاموش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے ملک کی عوام کو جو خواب دکھائے تھے، وہ ایک ایک کر کے ٹوٹ رہے ہیں اور ملک کی عظیم تاریخ کو داغدار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں، لیکن رام مندر چندہ چوری کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو پر مبینہ زمین گھوٹالے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے پروین پاٹھک نے کہا کہ ان الزامات کو سامنے آئے 10 دن گزر چکے ہیں، لیکن بی جے پی کی پوری اعلیٰ قیادت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب نے یہ تو سنا تھا کہ ایک لیڈر کو زمین سے جڑا ہونا چاہیے، لیکن بی جے پی کے لوگوں نے اس کا مطلب کچھ اور ہی سمجھ لیا۔ موہن یادو عوامی مسائل سے تو نہیں جڑے، البتہ کئی ’زمینوں‘ سے ضرور جڑ گئے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ اور پورا سرکاری نظام اس مبینہ زمین گھوٹالے پر خاموش ہے، اسی لیے مدھیہ پردیش کانگریس نے ریاست گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پروین پاٹھک نے اعلان کیا کہ کانگریس اجین سے ایودھیا تک ہونے والے مبینہ گھوٹالوں اور لوٹ کے خلاف ایک بڑی مہم چلائے گی۔ اس مہم کے تحت پارٹی کے لیڈران ریاست بھر میں پریس کانفرنسیں کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک آن لائن پورٹل بھی شروع کیا جائے گا، جہاں عوام مختلف سرکاری محکموں سے متعلق اپنی شکایات درج کرا سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 جولائی کو مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی) بھوپال میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرے گی، جبکہ 20 جولائی سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں بھی اس معاملے پر حکومت سے سخت سوالات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران کانگریس کے ضلعی صدور ان سے براہِ راست جواب طلب کریں گے۔ اگر اس کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی تو اجین میں ایک تاریخی عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔
پروین پاٹھک نے مدھیہ پردیش حکومت کے سامنے 3 اہم مطالبات بھی رکھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت مبینہ زمین گھوٹالے پر فوری طور پر قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کرے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک عدالتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عدالتی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیر اعلیٰ موہن یادو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ پروین پاٹھک کے ان بیانات کے بعد مدھیہ پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر مبینہ بدعنوانی، زمین گھوٹالے اور رام مندر چندہ چوری کے معاملات پر سیاسی کشیدگی بڑھنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
