قومی

الیکشن کمیشن کے مبصرین کی ٹیم سے دوبارہ ملنا بے سود: این سی

نیشنل کانفرنس نے الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ مبصرین کی ٹیم سے نہ ملنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے پہلے ہی ریاست کے دورے پر آئی ٹیم کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے مقرر کردہ مبصرین کی ٹیم، جو اس وقت سری نگر کے دورے پر ہے، سے نہ ملنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے پہلے ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا کی قیادت میں ریاست کے دورے پر آئی ہوئی ٹیم کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے اور پارٹی دوسری بار الیکشن کمیشن کی ٹیم سے ملنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ہے۔

پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگرنے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نئی تشکیل شدہ مبصرین کی ٹیم کے ساتھ ملنے کا کیا فائدہ ہے؟ ہم نے پہلے ہی اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں اپنا موقف سامنے رکھا ہے اور لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کرانے کے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جب سے ہم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سربراہی والی ٹیم سے ملے ہیں تب سے زمینی سطحی پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ، اس لئے ہمارا موقف بھی وہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نئی ٹیم سے نہیں ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات موخر کرنے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس کسی نے بھی یہ غیر جمہوری فیصلہ لیا ہے، کے پیچھے کوئی سازش کارفرما ہے، نہیں تو یہاں اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات بیک وقت نہ کرانے کی کوئی بھی ٹھوس وجہ نہیں۔ اگر لوک سبھا انتخابات کے لئے صورتحال موزوں ہے تو اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے انہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ الیکشن کمیشن نے یہاں دونوں انتخابات ایک ساتھ کرانے کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے وقت ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔

جنرل سکریٹری نے کہا کہ جو لوگ انتخابات نہ کرانے کے پیچھے ہیں انہیں ایسے کسی بھی اقدام سے پرہیز کرنا چاہئے جو ریاست کے خرمن امن کو آگ لگانے کا سبب بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام ریاست کی وحدت اور پہنچان کے خلاف ہورہی سازشوں سے بخوبی واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتی ہے جو مودی کے اشاروں پر ناچے۔تاہم جموں وکشمیر کے عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ایسے تمام عناصر کو دھول چٹانے کے لئے متحد ہوں گے جو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے والوں کے ایجنٹ بنے بیٹھے ہیں۔