اردو کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بنانا لازمی: ڈاکٹر ریحان غنی

اردو ایکشن کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر ریحان غنی نے ایک بیان جاری کر کہا کہ ’’ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم سب مل کر اردو تحریک کو آگے بڑھائیں گے تاکہ حکومت پر دباؤ بنے اور وہ ہماری باتیں سننے پر مجبور ہو۔‘‘

ڈاکٹر ریحان غنی
ڈاکٹر ریحان غنی
user

تنویر

بہار میں اردو کے تئیں حکومت کی بے حسی اور بے راہ روی کے درمیان اس زبان کو اس کا حق دلانے اور فروغ دینے کی کوششیں تیز ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ کچھ تنظیمیں اردو کی بقا اور مسائل کے حل کو لے کر کافی سنجیدہ ہیں اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی آگے بڑھا ہے۔ اس تعلق سے ’اردو ایکشن کمیٹی‘ کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اردو کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت پر دباؤ بنایا جائے اور اردو تحریک کو خلوص نیتی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

’اردو ایکشن کمیٹی‘ کے نائب صدر ڈاکٹر ریحان غنی نے جاری کردہ اپنے بیان میں اردو کے دو اہم مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اردو کے مسائل دو طرح کے ہیں، ایک کا تعلق ہم اردو والوں سے ہے، اور دوسرے کا تعلق حکومت سے ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا ہے کہ اردو اخبار خرید کر پڑھنا، شادی کے کارڈ اردو میں شائع کروانا، ناموں کی تختیاں (نیم پلیٹ) اردو میں آویزاں کرنا، اپنے بچوں کو اردو پڑھانا وغیرہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ان کا تعلق ہم اردو داں طبقہ سے ہے۔ دراصل اس بیان سے ڈاکٹر ریحان غنی نے ان لوگوں کو بیدار ہونے کی تلقین کی ہے جو اردو داں ہونے کے باوجود اردو سے دور ہو رہے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی اردو تعلیم سے محروم کر رہے ہیں۔


’اردو ایکشن کمیٹی‘ کے نائب صدر نے اردو کے فروغ کے لیے سرگرمی کے ساتھ مہم چلائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر زیر التوا پڑے اردو سے جڑے کاموں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ریاستی حکومت پر دباؤ بنانا ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’حکومت کی سطح پر اردو کے جو کام التوا میں پڑے ہوئے ہیں، ان کی فہرست ہمیں بنانی ہوگی۔ فی الحال ہم لوگوں کو درج ذیل مسائل کو لے کر وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے ملاقات کرنی چاہئے۔

(1) پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک اردو تعلیم کو لازمی بنایا جائے، (2) ہر اسکول میں لازمی طور پر اردو اساتذہ کا تقرر کیا جائے، (3) اسکولوں میں اردو کی لازمیت کو بحال کیا جائے، (4) اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کو ہندی ٹی آی ٹی امیدواروں کی طرح ہی دس فیصد گریس مارکس دے کر برسوں سے التوا میں پڑے ریزلٹ کو جلد از جلد جاری کیا جائے۔‘‘


ڈاکٹر ریحان غنی نے مذکورہ چار نکات کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ’’اردو کے یہ چار بنیادی مسائل ہیں جن کے تعلق سے ہمیں فی الحال حکومت پر دباؤ بنانا چاہئے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان کے علاوہ کئی اور مسائل ہیں جن کو سرکاری سطح پر حل کروانے کے لئے مرحلہ وار کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کوعہد کرنا چاہئے کہ ہم سب مل کر اردو تحریک کو آگے بڑھائیں گے تاکہ حکومت پر دباؤ بنے اور وہ ہماری باتیں سننے پر مجبور ہو۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔