بابری مسجد معاملہ میں ثالثی کے لئے مزید وقت دیا جانا درست: اقبال اَنصاری

بابری مسجد معاملہ کے مدعی اقبال انصاری نے کہا، ’’میں نے ثالثی کمیٹی بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا استقبال کیا تھا اور اگر کمیٹی کو مزید وقت دیا جاتا ہے تو اس سے حل نکل سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی/لکھنؤ: ایودھیا کے بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کے مدعی اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے تشکیل شدہ ثالثی کمیٹی کو مزید وقت دیا جانا چاہیے جس سے تمام فریقین کے مفادات پر غور کیا جا سکے۔ اقبال انصاری نے یہ بیان دہائیوں پرانے اس معاملہ کی جلد سماعت اور فیصلے کے لئے دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ کی سماعت سے قبل دیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایودھیا کے بابری مسجد-رام مندر تنازعہ اراضی معاملے میں ثالثی کے عمل کی میعاد میں 31 جولائی تک اضافہ کر دیا۔

عدالت عظمیٰ کے سابق جج ایف ایم آئی کلیف اللہ کی قیادت والی ثالثی کمیٹی نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے جمعرات کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے کمیٹی سے درخواست کی ہے کہ وہ ثالثی کا عمل 31 جولائی تک جاری رکھیں۔

جسٹس گوگوئی نے کہا کہ ’’ہم ثالثی کمیٹی سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ 31 جولائی تک ثالثی کا عمل جاری رکھیں اور اس کے نتائج کے بارے میں اعلی عدالت کو اطلاع دیں۔ چیف جسٹس نے ثالثی کے عمل کے جائزہ کے لئے 2 اگست کی تاریخ طے کی ہے۔

جسٹس کلیف اللہ کمیٹی نے آئینی بنچ کے گزشتہ 11 جولائی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے آج اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ عدالت کا گزشتہ ہفتہ یہ حکم گوپال سنگھ وشارد کی عرضی کی سماعت کے دوران آیا تھا۔ سال 1950 میں دائر رام جنم بھومی بابری مسجد زمین تنازعہ کے اصل مدعی راجندر سنگھ تھے جن کے انتقال کے بعد وشاردا یہ مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

بابری مسجد معاملہ کے مدعی اقبال انصاری نے کہا، ’’میں نے ثالثی کمیٹی بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا استقبال کیا تھا اور اگر کمیٹی کو مزید وقت دیا جاتا ہے تو اس سے حل نکل سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا جوبھی فیصلہ ہوگا اسے ہم قبول کریں گے۔ ‘‘

واضح رہے کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے 8 مارچ کو ثالثی کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کا سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج کلیف اللہ کو بنایا گیا ہے۔ کمیٹی نے 7 مئی کو سیل بند دستاویزات میں عبوری رپورٹ سونپی تھی جس کے بعد کمیٹی کی گزارش پر سپریم کورٹ نے کوئی ایسا حل نکالنے کے لئے 15 اگست تک کا وقت دیا تھا جو تمام فریقین کو قابل قبول ہو۔ اس کے بعد 11 جولائی کو آئینی بنچ نے ثالثی کمیٹی سے 18 جولائی تک اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لئے کہا تھا۔

مقدمہ میں مدعی اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ ’’سیاست کی وجہ سے اس معاملہ میں تاخیر ہوئی ہے جو اب تک حل ہو جانا چاہیے تھا۔ ‘‘

Published: 18 Jul 2019, 7:10 PM
next