اسرو کے سائنسداں کا ہم جنس پرست ساتھی لیب ٹیکنیشین کے ہاتھوں قتل

ہم جنس پرست لیب ٹیکنیشین کو جب جنسی تعلقات کے بدلے میں پیسے نہیں ملے تو اس نے سائنسداں سریش کمار کو مارنے کی سازش رچی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

یکم اکتوبر کو اسرو کے سائنسداں سریش کمار کی پُراسرار حالت میں ان کے فلیٹ سے لاش ملی تھی اس معاملہ میں ایک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ پولس نے اس معاملہ میں ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور یہ معاملہ ہم جنس پرستی سے جڑا ہوا ہے۔ اس معاملہ میں پولس نے سریش کمار کے ساتھی لیب ٹیکنیشین کو گرفتار کر لیا ہے۔

حیدرآباد کے این آر ایس سی کے سائنسداں سریش کمار کے قتل کا تعلق ہم جنس پرستی سے جڑا ہوا ہے۔ پولس نے بتایا کہ 56 سالہ سریش کمار کو ان کے ہی فلیٹ میں مردہ پایا گیا تھا۔ ان کے سر میں چوٹ کے نشان تھے اور وہ اپنے اہل خانہ سے دور رہتے تھے۔

پولس کمشنر انجنی کمار نے بتایا کہ سریش کمار کے اکیلے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیب ٹیکنیشین نے خون کے سیمپل لینے کے نام پر ان سے قربت اختیار کر لی تھی اور ان سے غیر فطری تعلقات بنا لئے تھے۔ پھر اس نے ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے اور اس کے بدلے میں ان سے روپے ملنے کی امید تھی۔ انجنی کمار نے بتایا کہ جب ان سے روپے نہیں ملے تب اس نے سائنسداں سریش کمار کو مارنے کی سازش رچ لی۔ وہ سریش کمار کے فلیٹ پر 30 ستمبر کو گیا اس نے پہلے ان سے جسمانی تعلقات بنائے اور پھر سر پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں مار ڈالا۔

پولس کے مطابق چینئی میں رہ رہی سریش کمار کی اہلیہ نے جب اپنے شوہر کو فون کیا، جب ان کا فون نہیں ملا تو انہوں نے پڑوسیوں کو فون کیا جس سے انہیں پتہ لگا کہ سریش کمار کا کسی نے قتل کر دیا ہے۔

Published: 5 Oct 2019, 12:57 PM