ہندوستان کی خلا میں ’سولرمشن‘ بھیجنے کی تیاری

اسرو کے صدر ڈاکٹر سیوِن نے صحافیوں کو یہ اطلاع دی، چندریان۔2 کی تاریخوں کے اعلان کے ایک دن بعد اسرو کے اس اعلان سے ملک کا فخر مزید بڑھا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان نے فلکیات کے میدان میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ برس چھ ماہ کے اندر’سولر مشن‘ اور آئندہ دو، تین سال میں ’انڈین وینیوژن آربیٹرمشن‘ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن (اسرو) نے اپنا خلائی مرکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اسرو کے صدر ڈاکٹر سیوِن نے جمعرات کو یہاں صحافیوں کو یہ اطلاع دی۔ چندریان۔2 کی تاریخوں کے اعلان کے ایک دن بعد اسرو کے اس اعلان سے ملک کا فخر مزید بڑھا ہے۔

خلائی محکمہ کے وزیر مملکت ڈاکٹر جیتیندر سنگھ نے بتایا کہ خلا میں ملک کے پہلے’انسانی مشن گگن یان‘ کے لیے خلائی مسافروں کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چھ ماہ کے اندر انتخاب کا عمل پورا کر لیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مکمل ہندوستانی مشن ہوگا۔ گگن یان کے ایک ایک پرزے، اس میں کام آنے والی تمام چیزیں اور اس سے متعلق سائنسدان بھی ہندوستانی ہوں گے۔

ڈاکٹر شیون نے بتایا کہ خلائی مسافروں کو ابتدائی اور خصوصی ماڈیول کی ٹریننگ ملک میں ہی دی جائے گی جبکہ خصوصی ٹریننگ کے لیے اگر ضرورت پڑی تو انھیں بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ گگن یان کو دسمبر 2021 میں لانچ کیا جائے گا۔ قبل ازیں دسمبر 2020 میں بغیر خلائی مسافروں کے پہلا گگن یان بھیجا جائے گا اور اس کے چھ ماہ بعد دوسرا گگن یان بھیجا جائے گا۔