کیا کسی بھی وقت ہریانہ کی مخلوط حکومت گر سکتی ہے؟

سابق وزیر اعلی اورآئی این ایل ڈی کے رہنما اوم پرکاش چوٹالہ آج جنتر منتر پر کسانوں کےساتھ حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

وزیر اعلی کھٹر کی فائل تصویر آئی اے این ایس
وزیر اعلی کھٹر کی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہریا نہ کے سابق وزیر اعلی اور آئی این ایل ڈی کے رہنما اوم پرکاش چوٹالہ نے کل غازی پور بارڈر پر کسانو ں اور کسان رہنما رکیش ٹکیت سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ حالات بہت سنگین ہیں اور ان کی پارٹی کسانوں کی حمایت کر تی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کے کسان کافی پریشانیوں سےدو چار ہیں ۔

اوم پرکاش چوٹالہ نے کسان تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کسان تحریک کی وجہ سے ملک میں جو حالات پیدا ہو گئے ہیں اس کی وجہ سے ملک میں کسی بھی وقت وسط مدتی انتخابات ہو سکتے ہیں ۔واضح رہے اوم پرکاش چوٹالہ کے پوتے دشینت چوٹالہ کی جے جے پی پارٹی ہریانہ کی کھٹر حکومت کی اتحادی ہے اور دشینت کھٹر حکومت میں نائب وزیر اعلی ہیں۔


نیوز پورٹل کے مطابق اوم پرکاش چوٹالہ نے کہا ہے کہ کسان تحریک کا اتنا اثر ہے کہ مرکزی حکومت کے اتحادی پہلے ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور آگے بھی کچھ اور چھوڑ سکتے ہیں ۔ واضح رہے اکالی دل جو این ڈی اے کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی تھی اس نے کسان تحریک کے مدے پر این ڈی اے سےعلیحدگی اختیار کر لی ہے ۔اوم پرکاش چوٹالہ نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ورکر بھی اب دوسرے امکانات پر غور کر رہے ہیں ۔دوسری جانب راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ بھارتیہ کسان یونین غازی پور بارڈر پر آج کرناٹک کسان یوم شہادت منائے گی۔

آج دو سو کسان جنتر منتر پر کسان مخالف بلوں کے خلاف احتجاج کریں گے جس کی اجازت مل گئی ہے۔لوگوں میں یہ بے چینی ہے کہ اوم پرکاش چوٹالہ اپنے پوتےدشینت چوٹالہ کے ساتھ اپنےرشتوں کی وضاحت کیوں نہیں کر رہے لیکن چوٹالہ کے جملوں سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہریانہ کی کھٹر حکومت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔