کیا یوگی کو معلوم ہے کہ ہندو دھرم میں کھلے عام وسیع تر مجسمے نصب کرنا ممنوع ہے؟

ہندو دھرم کی ایک مذہبی کتاب ’واراہ پوران‘ کے مطابق کھلے عام وسیع تر مجسمہ نصب کرنا ایسے جرائم کے زمرے میں آتا ہے جس سے ہر شخص کو دور رہنا چاہئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مرنال پانڈے

بت پرستی دنیا بھر میں کسی نہ کسی شکل میں ہوتی رہی ہے، ہمارے یہاں بھی ہوتی ہے لیکن بت پرستی کا اصل مقصد باہری مجسمہ کی پرستش کرنا نہیں بلکہ اس کی روحانی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ یہی بت پرستی جب سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش بن جاتی ہے تو تباہ کن ہو جاتی ہے۔ یونان میں کبھی ایتھینس کے بڑے رہنما پریکلیز نے کہا تھا کہ ہم فن کی عبادت تو کرتے ہیں لیکن تخریب کاری کے لئے نہیں۔ اسی طرح کالی داس نے بھی شیو سے پاروتی کو کہلوایا کہ یہ عوامی رائے ہے کہ بت پرستی کرنی چاہئے لیکن بدکار دل سے نہیں۔

اب اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جب اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی جی نے ایودھیا میں رام کا عظیم الشان مجسمہ دریائے سرجو کے ساحل پر نصب کرنے کا اعلان کیا تو ان کی منشا کیا تھی! بہرحال مجسمہ نصب کرنے سے قبل کانگریس کے ایک دانشور اعلیٰ رہنما ڈاکٹر کرن سنگھ نے یوگی جی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بغیر سیا (سیتا) کے رام کے مجسمہ کا تصور بھی کرنا بے معنی ہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ ہندوستانی روایات سے بخوبی واقف ہیں اور ان کی بات میں دم ہے۔ تلسی داس بھی کہہ گئے ہیں، ’سیا رام مے جُگ جانی، کرہوں پرنام جوری جُگ پانی۔‘ یعنی نصب کریں تو دونوں (رام اور سیتا ) کے مجسمے نصب کریں ورنہ ناانصافی سے جنگل میں بھیج دی گئی حاملہ سیتا کو آپ دوبارہ ایودھیا سے بدر کریں گے۔ بڑے لوگوں کی بڑی بات!

بہر حال مترو! ہندو مذہبی کتابوں میں سرسری طور پر بت پرستی کی بابت حقائق کچھ اس طرح ہیں:

زمانہ وید میں بت پرستی کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔ دھرم شاستر کا اتیہاس (وامن راؤ کانے) کے مطابق اس وقت عقیدہ کا فقدان نہیں تھا لیکن عوام میں آتش، سورج اور ہوا کی پرستش براہ راست یا باالواسطہ طور پر ہوتی تھی۔ خواہ منتروں میں دیوتاؤں کے روپ کا پر کشش تصور کیا جاتا تھا لیکن پھر بھی کہا جاتا تھا کہ وہ بے شکل و صورت ہیں۔

  1. بت پرستی کی شروعات اوّل صدی کے نزدیک شروع ہوئی اور پہلے ’مہایان بدھ‘ مذہب سے وابستہ لوگوں نے مجسمے تخلیق کرنے شروع کئے۔ پھر جین مذہب کے پیروکار بھی ’جِن دیوتا‘ کے خوبصورت مجسمے تخلیق کر کے ان کو ’استوپوں‘ میں نصب کرنے لگے۔ پھر تقریباً 14ویں صدی میں قدیمی ہندو دھرم کے بھگتوں کے لئے بھی دیوتاؤں کے مجسمے تعمیر ہونے لگے، جن کی گھر یا مندر میں رکھ کر پرستش کی جاتی تھی۔ رادھا اور کرشن کے مجسمے تعمیر کرنے کا خیال ولبھا چارئے کے ایک بنگالی شاگرد کی بیوی جانہوی دیوی کا تھا۔ جنہوں نے ورنداون میں رادھا کرشن کے جوڑے کا مجسمہ نیمائی نامی سنگ تراش سے تخلیق کروا کر لگوایا۔
  2. آٹھویں صدی سے لے کر 11ویں صدی کے درمیان ممکنہ طور پر اسلام کا عروج ہونے پر غیر اسلامی لوگوں اور ان کے ہندو راجاؤں کی جانب سے بڑے بڑے شاہی مندر بنوانے اور عوامی پرستش کرنے کی ہوڑ لگنے لگی۔ لیکن ہر گاؤں میں علاقائی دیوتاؤں کے مندر موجود تھے جو تھان یا استھان (مقام ) کہلاتے ہیں اور وہ آج بھی ہر طرح کے تام جھام سے آزاد ہیں۔
  3. ہندو مذہبی کتاب ’متسیا پوران ‘کے مطابق گھر میں جن مجسموں کی پرستش کی جاتی ہے ان کی اونچائی انگوٹھے سے لے کر 12 انگل تک ہی ہونی چاہئے۔ لیکن مندر میں نصب ہونے والے مجسموں کی اونچائی 16 انگل تک ہو سکتی ہے۔ بلند تر دیوتاؤں کے مجسمے، وہ بھی کھلے عام نصب کرانے ممنوع ہیں۔ ایک اور ہندو مذہبی کتاب واراہ پوران کے مطابق یہ ان 32 جرائم (گناہ) کے زمرے میں آتا ہے جس سے ہر شخص کو دور رہنا چاہئے۔
Published: 16 Dec 2018, 9:02 AM
next