’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ کانفرنس بی جے پی-جنتا دل یو کی اسپانسرڈ تھی!

کانفرنس کے مقرر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے قریبی تصور کیے جانے والے خالد انور کو اچانک ایم ایل سی کا ٹکٹ ملنے کی بات نے کانفرنس پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئے ہیں۔

By نیاز عالم

پٹنہ :’ دین بچاؤ -ملک بچاؤ‘ کانفرنس کے فوراً بعد اس کے کنوینر اور اردو روزنامہ ’ہمارا سماج‘ کے مدیر خالد انور کو حکومت کے ذریعہ ایم ایل سی کا ٹکٹ دے دیا گیا اور نامزدگی بھی ہو گئی یعنی دین بھی بچ گیا اور ملک بھی بچ گیا۔ ایک ہی جھٹکے میں دین اور ملک کے تمام مسائل حل ہو گئے ۔ بالآخر ’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ کانفرنس کے بارے میں وہی بات سامنے آئی جس کا خدشہ مسلم سماجی تنظیموں کے ساتھ ساتھ دانشور طبقہ ظاہر کر رہا تھا۔ پہلے سے ہی یہ بات کہی جا رہی تھی کہ یہ کانفرنس محض دِکھانے کے لیے مسلمانوں کو مجتمع کرنے کی کوشش ہے لیکن در پردہ اس میں ایک خاص جماعت کا سیاسی فائدہ چھپا ہوا ہے۔ یہ دعویٰ کافی حد تک سچ بھی نظر آنے لگا ہے۔ کانفرنس کے مقرر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے قریبی تصور کیے جانے والے خالد انور کو اچانک ایم ایل سی کا ٹکٹ ملنے کی بات نےکانفرنس پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں ۔ کانفرنس کو وزیر اعلیٰ نتیش کما ر کے ذریعہ ’ہائی جیک‘ کرنے کا الزام پہلے سے ہی لگ رہا تھا۔ایک عام تاثر یہ ہے کہ دین بچے یا نہ بچے ملک بچے یا نہ بچے لیکن کچھ لوگوں کو اس کانفرنس کے نام پر نتیش کمار نے نواز تو دیا لیکن ان کی شبیہ ان کے سماج میں بھی بری طرح خراب کر دی ہے ۔ نتیش نے ان لوگوں کو استعمال کر کے مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ بی جےپی اور جے ڈی یو کو عام انتخابات میں فائدہ ہو سکے ۔ نتیش کے پاس اب مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ کوئی سیاسی کارڈ نہیں بچا ہے۔

’قومی آواز‘ نے جب اس سلسلے میں خالد انور کا رد عمل جاننا چاہا تو انھوں نے بس اتنا کہا کہ ’’جمہوریت میں لوگوں کو سوال کرنے کا حق ہے اور یہ بیداری کے لیے ضروری بھی ہے۔‘‘ ساتھ ہی سوال اٹھانے والوں کی یہ کہتے ہوئے تنقید بھی کر ڈالی کہ ’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ کانفرنس کے مقصد کا قتل نہ کریں۔ ایسی کانفرنس صدیوں میں ہوتی ہے اور جو لوگ اس میں شامل ہوئے ہیں وہی آگے بدلاؤ لائیں گے۔‘‘

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

خالد انور کو ایم ایل سی کا ٹکٹ دیے جانے کی خبر پر بہار میں اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی) کے قومی نائب صدر شیوانند تیواری کا کہنا ہے کہ ’’خبر گرم تھی کہ مولانا ولی رحمانی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ملنے کے لیے بلایا ہے۔ اب محسوس ہو رہا ہے کہ خالد انور کو بلایا ہوگا۔‘‘ شیوانند تیواری نے مزید کہا کہ ’’جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ نتیش کمار مسلم ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو جمع کرنا اور ووٹوں کے لیے کسی کی بات ماننا، یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔‘‘

شیوانند تیواری نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران مولانا ولی رحمانی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ عجیب بات ہے کہ کل آپ نے ایک کانفرنس بلائی اور آج اس کانفرنس کے کنوینر، جو آپ کے خاص رفیقوں میں سے ہیں، انھیں ایم ایل سی کا ٹکٹ دے دیا جاتا ہے۔ اس پورے معاملے کا منفی اثر مولانا ولی رحمانی کی شبیہ پر بھی پڑے گا اور امارت شرعیہ کا وقار بھی مجروح ہوگا۔‘‘

آر جے ڈی کے ترجمان اور ممبر اسمبلی شکتی سنگھ نے اس پورے معاملے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ٹکٹ دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کوئی شخص کسی سماج یا ادارہ کو بھروسے میں لے کر اس کا استعمال کرتا ہے تو آگے چل کر لوگ سبق ضرور سکھائیں گے۔‘‘ ہندوستانی عوام مورچہ کے قومی ترجمان ڈاکٹر دانش رضوان اس کانفرنس پر ہی اعتراض کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کانفرنس کا انعقاد مسلمانوں اور دلتوں کے مسائل اٹھانے کے لیے کیا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے اس سے ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے وہ مسلمان کے نام پر دھبہ ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جو مذہب کے نام پر لوگوں کو آگے لا کر اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

دانش رضوان نے ’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ کانفرنس کا موازنہ اَنّا ہزارے کی تحریک سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’جس طرح سے اَنّا تحریک سے اروند کیجریوال نکلے اور اَنّا کا وجود ختم ہو گیا، ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کی رہبری کی بات کرتے ہوئے ایک بڑی تحریک کی شروعات کی گئی اور اسے سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ جو ہوا وہ بالکل غلط ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ کانفرنس پوری طرح سے جنتا دل یو اور بی جے پی کے ذریعہ اسپانسرڈتھی۔ اس میں جس طرح سے نتیش کمار کے نام کا پرچے تقسیم کئے گئے، یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اجتماع میں نتیش کمار کا ایجنڈا نافذ کیا گیا۔‘‘

بہار کانگریس کے کارگزار صدر کوکب قادری پروگرام کے کنوینر خالد انور کو ایم ایل سی ٹکٹ دیے جانے میں کسی حیرت کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ’’جس طرح سے اس کانفرنس میں پوسٹر اور بینر میں ان کے لوگوں کو پروموٹ کیا جا رہا تھا اس سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ پروگرام کس کی طرف سے اسپانسر ہے اور کس کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔‘‘ دین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے منعقد اس تقریب کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’صحیح معنوں میں دین کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے۔ اس دین کو جس نے بنایا ہے وہ خود اس کو بچائے گا۔ یہ ضرور ہے کہ ملک کو کچھ فرقہ پرست طاقتوں سے خطرہ لاحق ہے، آئین کو خطرہ ہے۔ اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘

کوکب قادری نے نتیش کمار کے ذریعہ مسلمانوں کے قریب آنے کی کوششوں کے تعلق سے کہا کہ ’’دو کشتی پر سواری نہیں کی جا سکتی۔ ایک طرف بی جے پی کے ساتھ گلے مل رہے ہیں، ڈبل انجن کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو بھی خوش کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں نے تو نتیش کمار کی پہلے بھی حمایت کی ہے لیکن جس طرح سے انھوں نے مینڈیٹ کو دھوکہ دے کر بی جے پی سے ہاتھ ملایا ہے، اسے اقلیتی طبقہ کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اس کانفرنس کے ذریعہ ان کے زخموں پر مرہم پٹی لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

دوسری طرف کئی سماجی تنظیمیں بھی اس کانفرنس کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ ان میں آل انڈیا مسلم مورچہ کے جنرل سکریٹری محمود عالم کا کہنا ہے کہ ’’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ پوری طرح سے سیاسی تقریب ثابت ہوئی۔ مولانا ولی رحمانی نے لاکھوں مسلمانوں کی بھیڑ کو فروخت کر کے اپنے چہیتے خالد انور کو ایم ایل سی بنوانے کا کام کیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’خالد انور وہی شخص ہیں جنھوں نے وقف نمبر 2048 صندل پور پٹنہ قبرستان کی زمین پر ’ہمارا سماج‘ اُردو اخبار کی عمارت بنائی ہے۔‘‘ محمود عالم یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’یہ ریلی دین کو بچانے کے لیے نہیں بی جے پی کو بچانے کے لیے تھی۔ دراصل نتیش کمار کے کندھے پر مسلمانوں کو بٹھا کر بی جے پی 2019 میں پھر سے برسراقتدار ہونا چاہتی ہے۔‘‘

معروف سماجی کارکن علی امام بھارتی اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ ’’مولانا ولی رحمانی نے ’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ کا نعرہ دے کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا کام کیا ہے۔ بھیڑ دکھا کر مولانا رحمانی نے قبرستان کے لٹیرے خالد انور کو ایم ایل سی بنا دیا اور مسلمانوں کو دھوکہ دے دیا۔‘‘

کانفرنس کے ایک دن بعد جیسے ہی سچائی سے لوگوں کا سامنا ہوا، مولانا ولی رحمانی کا پُتلا نذر آتش کیا جانے لگا۔ لوگوں میں غم کے ساتھ ساتھ ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مسلم طلبا اور نوجوان کانفرنس کے بعد خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ سماجی کارکن مصطفی جیلانی کا کہنا ہے کہ پروگرام کے بعد مولانا ولی رحمانی نے جس طرح خالد انور کو ایم ایل سی کا ٹکٹ دلوایا وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ ایک دیگر سماجی کارکن ظفر احمد کا کہنا ہے کہ مولانا ولی رحمانی کو سیاست ہی کرنی ہے تو وہ امیر شریعت کا عہدہ چھوڑ دیں۔ محمد جاوید کہتے ہیں کہ ’’دین اور مذہب کے نام پر مولانا رحمانی اور امارتِ شرعیہ نے جو کام کیا ہے اس سے مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور اس کے خلاف پوری ریاست میں مہم چلائی جائے گی۔‘‘

امارت شرعیہ کے جنرل سکریٹری مولانا انیس الرحمن قاسمی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’’اس پورے معاملے کو بے وجہ کا طول دیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ کانفرنس ہوتے ہی اس کی برکت شروع ہو گئی اور اسی برکت سے ایک مسلمان کو ایم ایل سی کا ٹکٹ ملا ہے۔‘‘