اویسی برادران کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور مسلمان

اشوک سنگھل نے کہا تھا کہ ہم نے مسلم ووٹ کی طاقت کا بھرم توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کو ہمارے رحم وکرم پر زندگی گزارنی ہوگی۔ اقتدار میں آنے کے بعد، بی جے پی نے ان ساڑھے چار برسوں کے دوران یہی کیا ہے۔

By م. افضل

آج کے بدترین سیاسی حالات میں جب مسلمانوں کو منصوبہ بند طریقے سے سیاست کے حاشیے پر دھکیل دیاگیا ہے بعض مسلم لیڈر جس طرح کے غیر جانبدارانہ بیان دیتے ہیں یا بیجا الزام تراشی میں مصروف نظر آتے ہیں، وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت سے اب انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اس وقت نہ صرف آر ایس ایس اور اس کی حواری تنظیموں بلکہ حکمراں بی جے پی کی طرف سے بھی پولرائزیشن کی کھل کر سیاست ہورہی ہے۔ 2019 کے عام الیکشن سے پہلے اور پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران مندر تعمیر کا ’ایشو‘ یوں ہی نہیں اٹھا ہے بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کے تحت اسے اٹھایاگیا ہے جس کا واحد مقصد فرقہ وارانہ صف بندی پیدا کرکے اکثریت کومتحد کرناہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں یہ کام 2014 میں کرچکی ہیں اور اس کا انہیں سیاسی فائدہ بھی ملا، تب انہوں نے مظفرنگر میں ہوئے فسادات کو بنیاد بناکر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کی تھی جس کے نتیجہ میں اکثریت کے ایک بڑے حلقے کی حمایت بی جے پی کو حاصل ہوگئی اور وہ اکثریت کے ساتھ پہلی بار اقتدار میں آگئی۔ اس بار بی جے پی کے پاس ایسا کوئی ’ایشو‘ نہیں ہے اور نہ ہی ’ترقی‘ کے نام پر اس کے پاس کچھ کہنے کو ہے، چنانچہ سب کا منہ بند کرنے کی غرض سے دوسری فرقہ پرست تنظیموں کو مندر تعمیر کا ایشو اٹھانے اور اس پر اشتعال انگیزی کرنے کے لئے آگے کردیاگیا ہے جس میں وشوہندو پریشد سے جڑے سادھو سنتوں کا ایک بڑا گروپ بھی معاونت کررہا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ’ایودھیا‘ میں ’دھرم سبھا‘ کے انعقاد کے پیچھے آر ایس ایس کا ہی اصل دماغ ہے۔ سیاسی ماہرین اس خدشہ کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ جوں جوں پارلیمانی الیکشن کی تاریخ قریب آتی جائے گی زہریلے بیانات اور اشتعال انگیزیوں میں مزید شدّت بھی آتی جائے گی۔

ملک کا مسلمان اب تک ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کرتا رہا ہے لیکن 2014 کے الیکشن میں پولرائزیشن کے نتیجہ میں یہ طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ ہمارے بہت سے قارئین کے ذہن میں وشو ہندوپریشد کے اس وقت کے جنرل سکریٹری اشوک سنگھل کا وہ بیان محفوظ ہوگا جو انہوں نے پارلیمانی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد دیا تھا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے اب مسلم ووٹ کی طاقت کا بھرم توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کو ہمارے رحم وکرم پر زندگی گزارنی ہوگی۔ اقتدار میں آنے کے بعد، بی جے پی نے ان ساڑھے چار برسوں کے دوران یہی کیا ہے۔ اس نے مسلمانوں کو سیاسی طورپر بے حیثیت اور بے وقعت بنانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ اس کی اس کوشش میں ہمارے بعض مسلم لیڈر اور جماعتیں بھی اپنے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے اس کی معاونت کرتی آئی ہیں۔

اسدالدین اویسی ’کل ہند مجلس اتحادالمسلمین‘ نامی پارٹی کے صدر ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد صلاح الدین اویسی مرحوم اس کے صدر تھے۔ بنیادی طور پر اس پارٹی کا دائرہ حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک محدود ہے مگر پچھلے چند برسوں کے دوران اویسی صاحب نے قومی سطح پر اپنی پارٹی کو شناخت دلانے کی کوشش کی ہے۔ مہاراشٹر اور کچھ دوسری ریاستوں میں بھی اب ان کی پارٹی سرگرم ہے۔ مسلم شناخت والی سیاسی پارٹیوں کا ملک میں سیاسی مستقبل کیا ہوسکتا ہے اور اس کی کوئی افادیت بھی ہے یا نہیں یہ بات ہماری بحث کا موضوع نہیں ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ملک کے ہر شہری کو الیکشن لڑنے اور اپنی بات کہنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ اس لئے اگر ’مجلس اتحادالمسلمین‘ قومی سطح پر اپنی شناخت بنانا چاہتی ہے اور اسدالدین اویسی قومی سطح پر اپنی افادیت ثابت کرناچاہتے ہیں تو اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ان سب کے ساتھ ہماری یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اپنا احتساب کرکے اس بات پر بھی غور کریں کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں یہ ملک وقوم کے مفاد میں ہے یا نہیں؟ دوسرے، ہم جو کچھ کررہے ہیں، اس کے ملک وقوم پر کہیں منفی اثرات تو مرتب نہیں ہورہے ہیں؟

حال ہی میں دو عجیب وغریب بیانات سامنے آئے ہیں، ایک تو خود اسدالدین اویسی کا ہے دوسرا ان کے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی کا۔ اسدالدین اویسی نے اپنے ایک بیان میں کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ممتاز وکیل اور سیاست داں کپل سبل کو بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کرنے سے روک دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی الیکشن ہورہے ہیں جس میں مجلس اتحاد المسلمین حصہ لے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اویسی نے حیدرآباد میں ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ اسی طرح ان کے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی نے ایک انتخابی ریلی میں انکشاف کیا کہ انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ایک کروڑ 62لاکھ روپے بابری مسجد کا مقدمہ لڑنے کے لئے دیئے ہیں۔ جہاں تک اسدالدین اویسی کے الزام کا تعلق ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کے اسباب و عوامل پر غور نہیں کیا اور اگر غور کیا ہوتا یا ان کی نیت میں اخلاص شامل ہوتا تو وہ اس طرح کی غیرذمہ دارانہ الزام تراشی ہرگز نہیں کرسکتے تھے۔ ان کا یہ الزام سراسر لغو اور بے بنیاد ہے۔

جہاں تک اکبرالدین اویسی کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو پیسہ دینے کی بات ہے تو انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اتنی بڑی رقم انہوں نے کہاں سے دی؟ اصولی طورپر کوئی سیاسی پارٹی، کسی غیر سرکاری یا ملی تنظیم کو چندہ نہیں دے سکتی۔ چانچہ اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو غلط ہے اور اگر اپنی جیب خاص سے دیا ہے تو پھر انہیں اپنی اس فیاضی کی وجہ بھی بتانی چاہیے تھی۔ میں بھی برسوں پرسنل لاء بورڈ کا ممبر رہا ہوں۔ بورڈ کی براہ راست کوئی آمدنی نہیں ہے، عوامی چندہ سے ہی یہ اپنے اخراجات پورے کرتا ہے لیکن میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی سیاسی پارٹی نے بورڈ کو چندہ دیا ہو اور اس نے فراخ دلی سے اسے قبول بھی کرلیا ہو۔

اس پس منظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر اویسی برادران نے اس طرح کے بیانات عین اس وقت کیوں دیئے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کا عمل جاری ہے اور پارلیمانی الیکشن سرپر ہیں۔ جہاں تک بابری مسجد مقدمہ کا تعلق ہے، بورڈ بھی اس مقدمہ کو لڑرہا ہے اور مولانا سید ارشد مدنی کی سرپرستی میں جمعیۃ علماءہند بھی باقاعدہ ممتاز وکلاءکے ایک پینل کے ذریعہ اس کی پیروی کررہی ہے لیکن مولانا مدنی نے کبھی اس بات کی تشہیر نہیں کی کہ وہ مسجد کا مقدمہ لڑرہے ہیں اور اس کے لئے وکلاء پر ایک خطیر رقم خرچ ہورہی ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ کوئی عام مقدمہ نہیں ہے اس لئے قانونی اخراجات بھی غیر معمولی ہوں گے۔ اس لئے اگر اکبرالدین اویسی نے اس حوالہ سے بورڈ کو کسی طرح کی مالی امداد دی تھی تو اس کا ڈھنڈورا انہیں نہیں پیٹنا چاہیے تھا۔

درحقیقت اویسی برادران کے دونوں بیانات کا اگر تجزیہ کیاجائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی باتیں انہوں نے مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے کہی ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے وہ دانستہ یانادانستہ طورپر اکثریت کو متحد کرنے کاکام بھی کررہے ہیں۔ ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اس کا ذکر میں اوپرکرچکا ہوں، ان حالات میں کیا اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟ نہیں بالکل نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بی جے پی کی فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔پھر یہ بھی ہے کہ میڈیا کا ایک حلقہ اویسی جیسے لوگوں کے بیانات کو ایک خاص تناظر میں پیش کرتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح ماضی میں سید شہاب الدین کی خبروں کو میڈیا ایک الگ رنگ دیدیا کرتا تھا۔

اسدالدین اویسی اور اکبرالدین اویسی دونوں پڑھے لکھے اور باشعور شخص ہیں، ملک کے جو حالات ہیں بلا شبہ وہ اس سے بھی بے خبر نہ ہوں گے۔ اب اگر اس کے بعد بھی وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ سیاسی رویہ کا مظاہرہ کرہے ہیں تو ان کی سیاسی نیت اور ایمانداری پر ہمیں سوال کھڑا کرنے کا حق ہے۔کہاں توملت کو یہ باور کرایاجاتا ہے کہ قومی سطح پر سیاست میں آکر وہ مسلم قیادت کے خلا کو پر اور بے قیادت مسلمانوں کی رہبری کرنا چاہتے ہیں۔ مگردوسری طرف اپنے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے وہ اس کھیل کا حصہ بھی بنتے نظر آرے ہیں جو مسلمانوں کو ملک میں سیاسی طورپر بے حیثیت بنادینے کے لئے شروع کیاگیا ہے۔ اپنے ذاتی و سیاسی مفاد کے لئے مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی مفاد کو نقصان پہنچانے والوں کو کیا مخلص اور ایماندار کہاجاسکتا ہے؟ اب اس کا فیصلہ مسلمانوں کو کرنا ہوگا؟۔