ری-ایگزام کی او ایم آر شیٹ میں بے ضابطگی نے ایک بار پھر طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے: رندیپ سرجے والا

سرجے والا نے کہا کہ مجموعی طور پر امتحان کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والی مودی حکومت نے پیپر لیک کے بعد اب ’نتائج میں دھاندلی‘ کے ذریعے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>رندیپ سرجے والا / سوشل میڈیا</p></div>
i

کانگریس کے سینئر لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے ری-نیٹ امتحان کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے بعد اب ری-نیٹ کے نتائج بھی طلبہ کے لیے ’بھاجپائی دھوکہ دہی‘ کی ایک نئی قسط ثابت ہوئے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ری-ایگزام کی او ایم آر شیٹ میں ہیرا پھیری اور او ایم آر شیٹ و مارک شیٹ کے نمبروں میں بڑے فرق نے ایک بار پھر طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے!‘‘

کانگریس لیڈر اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب اپنی او ایم آر شیٹ کو ’فائنل آنسر کی‘ سے ملایا تو ان کے نمبر کافی زیادہ تھے، لیکن جب مارک شیٹ ملی تو نمبر اچانک کم ہو گئے! کئی طلبہ کے نمبر 15 سے لے کر 600 نمبر تک کم ہو گئے ہیں، اسی وجہ سے جو طلبہ او ایم آر شیٹ کے مطابق امتحان پاس کر رہے تھے وہ اب ’کوالیفائی‘ بھی نہیں کر پا رہے!‘‘


رندیپ سرجے والا کے مطابق جیسے تیسے امتحان نمٹانے اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں اٹھتی ’چھاتروں کی گونج‘ سے گھبرائی مودی حکومت کے ٹول کٹ این ٹی اے نے، دکھاوے کے لیے جلد بازی میں آنسر-کی جاری کرنے کے محض 3 سے 4 گھنٹے بعد ہی رزلٹ کا بھی اعلان کر دیا! اتنی بڑی بے ضابطگی سامنے آئی ہے کہ جس طالبہ کے او ایم آر شیٹ کے مطابق 638 نمبر ہونے چاہیے تھے، اسے فائنل رزلٹ میں صرف 38 نمبر ملے ہیں!

کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہریانہ کے سونی پت کے طالب علم مکل کاجل کے اسکور کارڈ میں 2 مختلف نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق 17 جولائی کو ڈاؤن لوڈ کیے گئے اسکور کارڈ میں مکل کے 605 میں سے 720 نمبر اور آل انڈیا رینک 9551 درج تھی، جبکہ اگلے روز دوبارہ اسکور کارڈ ڈاؤن لوڈ کرنے پر اس کے نمبر کم ہو کر 60 رہ گئے اور رینک گر کر 1876324 ہو گئی۔ او ایم آر ریسپانس شیٹ اور این ٹی اے کی ’فائنل آنسر کی‘ سے ملانے پر بھی مکل کا اسکور 605 ہی بنتا ہے، مگر ’بھاجپائی نظام‘ کا 38 نمبروں کا یہ ظالمانہ مذاق دیکھیے! ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ایسے ہی ایک طالبہ پرتبھا تریویدی کے او ایم آر شیٹ کے مطابق 638 نمبر بنتے تھے، لیکن حتمی نتیجے میں انہیں صرف 38 نمبر دیے گئے۔ اسی طرح ایک اور طالب علم لکشیہ سنگھ کے او ایم آر کے مطابق 660 نمبر بنتے تھے، مگر نتیجے میں انہیں صرف 116 نمبر ملے۔


رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مجموعی طور پر امتحان کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والی مودی حکومت نے پیپر لیک کے بعد اب ’نتائج میں مبینہ دھاندلی‘ کے ذریعے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی کے سسٹم نے پہلے پیپر لیک اور 3 مئی 2026 کو امتحان منسوخ ہونے سے 14 بچوں کی جان لے لی، اب چاروں طرف سے دباؤ میں 21 جون 2026 کو دوبارہ ہونے والے امتحان کے بعد بھی مسئلہ جوں کا توں بنا ہوا ہے! وجہ بالکل صاف ہے، وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت بچوں کا مستقبل بچانے اور امتحان میں شفافیت لانے کے بجائے سارا زور صرف معاملے پر پردہ ڈالنے اور دھرمیندر پردھان کو بچانے میں لگا رکھا ہے!

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ ’’مگر ’نوجوان مخالف‘ بی جے پی کا آمرانہ نظام یہ سمجھ لے کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہونے، این ٹی اے کو تحلیل کرانے، شفاف امتحانی نظام قائم کرنے اور طلبہ کو انصاف دلانے تک... ملک اور کانگریس اس لڑائی کو سڑک سے پارلیمنٹ تک جاری رکھے گی!‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔