حقوق سے سمجھوتہ نہیں، باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے ایران: عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ ایران نے کبھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کیا ہے، صرف ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i

عراق کی راجدھانی بغداد پہنچے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک دباؤ میں آ کر اپنی خودمختاری اور حقوق سے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عراقچی ہفتے کے روز آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے 52 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے عراق کی راجدھانی بغداد پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی طرح کی زبردستی، دھمکی یا ڈرا دھمکا کر اپنی بات منوانے کی سیاست کو قبول نہیں کرتا۔

’شنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمد و رفت کے تئیں ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 28  فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے جانے سے پہلے یہ آبی راستہ کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو 7 روزہ ایک ٹھوس منصوبہ بھیجا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگر ضروری شرائط پوری ہو جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز کو 7 دنوں کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔


عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے عوام، اپنی خودمختاری اور جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کیا ہے اور صرف ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کے ہر ملک کی زمین، فضائی حدود اور بنیادی ڈھانچے کا استعمال صرف علاقائی سلامتی کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے اڈے کے طور پر۔

عراقچی نے کہا کہ کوئی بھی ملک دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر اپنی مستقل سلامتی قائم نہیں کر سکتا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے خطے کے مسائل کا حل خطے کے ممالک خود مل کر نکالیں۔ ایسا ہونے سے بیرونی طاقتوں کو جنگ کا بہانہ نہیں ملے گا۔28  فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے تہران اور ایران کے دیگر شہروں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی ٹھکانوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی کئی لہروں کے ذریعے حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کر دی۔


8 اپریل کو فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔ اس کے بعد 18جون کو ایران اور امریکہ نے خطے میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو 60  دنوں کے اندر بات چیت کرنی تھی، جس کی مدت 17 اگست کو ختم ہوگئی۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیاں ہٹانے کے سلسلے میں حتمی معاہدہ کرنا تھا۔ حالانکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب فریقین کسی ٹھوس معاہدے تک پہنچنے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔