بابری مسجد: ہمیں مصالحت پر نہیں شری شری پر اعتراض، اقبال انصاری کا بیان

اقبال انصاری نے کہا، ’’ایودھیا کے سادھو سنت بابری مسجد کے لئے تشکیل شدہ پینل کے رکن شری شری روی شنکر کی مخالفت کر رہے ہیں، عدالت کو پینل میں کچھ اور لوگوں کو شامل کرنا چاہیے۔‘‘

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایودھیا کے بابری مسجد-رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ کی جانب سے مصالحت کی کوششوں کے بعد فریقین فعال نظر آ رہے ہیں۔ لکھنؤ میں آج مسلم فریقین کا ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے، فریقین مقدمہ کے وکیل ظفریاب جیلانی سے تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کیے گئے پینل کے سامنے مسلم فریق اپنا موقف پیش کرے گا۔

قبل ازیں پیر کی شام مسلم راشٹریہ سنگھ کی 3 رکنی ٹیم بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری سے ملنے پہنچی، ملاقات کے بعد مسلم فریق اقبال انصاری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دیئے گئے پینل پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ’’عدالت کا ہم سبھی لوگ احترام کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے تشکیل شدہ پینل سے کوئی حل نکلے سبھی یہی چاہتے ہیں۔ لیکن شری شری روی شنکر کی مخالفت ایودھیا کے سادھو سنت کر رہے ہیں۔ ‘‘

اقبال انصاری نے مزید کہا، ’’جہاں سادھو سنت نہیں ہیں وہاں ہم بھی نہیں ہیں، ایودھیا کے سادھو، سنتوں کے بغیر مصالحت کے کوئی معنی نہیں ہیں۔‘‘ دریں اثنا اقبال انصاری نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ پینل میں کچھ مزید لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

بابری مسجد مقدمہ کے مدعی اقبال انصاری کی رہائش پر ان سے ملاقات کے بعد راشٹریہ مسلم سنگھ کے صدر عظیم صدیقی نے کہا کہ اس فیصلے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم لوگ ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کریں گے۔ لیکن ہم اتنی آسانی سے اپنی زمین سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ ہم صرف اور صرف عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو ہی قبول کریں گے۔ ‘‘ انہوں نے کہا، ’’بڑے سے بڑے تنازعہ کا حل بھی آخر کار میز پر ہی ہوتا ہے لیکن مصالحت میں کچھ لیں اور کچھ دیں کی حکمت عملی ہونی چاہیے، وہ بھی صاف دل کے ساتھ ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کرنے کی شرط پر۔ ایسا ہے تو فیصلہ آج ہی ہونے کی گنجائش ہے۔ ‘‘ انہوں نے عدالت عظمی سے مطالبہ کیا کہ یا تو روی شنکر کو پینل سے ہٹایا جائے یا پھر کچھ مزید لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے۔

ادھر، بابری مسجد تنازعہ سے وابستہ مسلم فریقین آج لکھنؤ میں اہم میٹنگ کرنے جا رہے ہیں۔ میٹنگ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ظفریاب جیلانی کی موجودگی میں شہر کے اسلامیہ کالج میں ہوگی۔ میٹنگ میں شرکت کے لئے بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری، حاجی محبوب اور محمد عمر ایودھیا سے لکھنؤ پہنچ چکے ہیں۔

next