آئی پی ایس افسر معطل، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کرناٹک حکومت کی بڑی کارروائی
معطلی کے دوران افسر کو آل انڈیا سروسز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز1969 کی دفعہ 4 کے تحت الاؤنسز ادا کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہیں ریاستی حکومت کی تحریری اجازت کے بغیر ہیڈ کوارٹر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بیلاری: کرناٹک حکومت نے آئی پی ایس افسر اور سول رائٹس انفورسمنٹ ڈارئکٹوریٹ کے ڈائرکٹر جنرل (ڈی جی پی) ڈاکٹر کے رام چندر راؤ کو ان کے خلاف مبینہ ’ہنی ٹریپ‘ اور قابل اعتراض برتاؤ کے معاملے میں فوری طور سے معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی مختلف نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان سے متعلق ایک ویڈیو اور خبروں کے تیزی سے وائرل ہونے کے بعد کی گئی۔
معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے حکومت نے سب سے پہلے ڈاکٹر رام چندر راؤ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حکومت کو اس مسئلہ پر اسمبلی میں کسی قسم کی شرمندگی یا سیاسی تنازعہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لئے بھی اُٹھایا گیا ہے کہ تاکہ اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرسکے۔
کرناٹک حکومت نے اس سلسلے میں باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔ حکم نامے کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز اور میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والی ویڈیوز اور خبروں میں دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر کے رام چندر راؤ کا طرز عمل ایک سرکاری ملازم کے طور پرنہیں ہے اور اس سے حکومت کی شبیہ کو ٹھیس پہنچی ہے۔ تحقیقات کے بعد حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ بادی النظر میں یہ طرز عمل آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز، 1968 کے رول 3 کی خلاف ورزی ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکم کے مطابق معطلی کی مدت کے دوران ڈاکٹر رام چندر راؤ کو آل انڈیا سروسز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز، 1969 کے رول 4 کے تحت الاؤنسز ادا کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ریاستی حکومت کی تحریری اجازت کے بغیر ہیڈ کوارٹر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریاستی انتظامیہ ایسے معاملات میں سخت رویہ اپنا رہی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی سطح پر بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔