کوٹہ: شادی لائق مسلم خواتین و مرد کا ’تعارفی اجلاس‘، منفرد پہل

’آل انڈیا مسلم اصلاحی سوسائٹی‘ کے صدر صدیق انصاری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں معذور، طلاق شدہ، بیوہ یا ایسے نوجوان جن کی بیوی فوت ہو چکی ہو وہ بھی اپنے لیے شریک حیات کا انتخاب کریں گے۔

مدھیہ پردیش کے اجین میں منعقدہ تعارفی جلسہ کی فائل تصویر
مدھیہ پردیش کے اجین میں منعقدہ تعارفی جلسہ کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

اجتماعی شادیوں کے بارے میں تو آپ نے سنا ہوگا لیکن راجستھان کے کوٹہ شہر میں مسلم خواتین و نوجوانان کا ایک تعارفی جلسہ منعقد ہونے جا رہا ہے۔ جلسہ میں شادی کے لائق مرد و خواتین اور ان کے والدین شرکت کریں گے اور اپنے لئے بہتر رشتوں کی تلاش کر سکیں گے۔ یہ جسلہ ’آل انڈیا مسلم اصلاحی سوسائٹی ‘ کے زیر اہتمام ہوگا اور اس کی کی معلومات تنظیم کے صدر ڈاکٹر صدیق انصاری نے دی ہے۔

دراصل اسلام میں شادی کو بغیر فضول خرچی اور سادگی سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور شادی کے معاملہ میں دولہا اور دلہن کی مرضی کو بھی فوقیت دی گئی ہے۔ لیکن بر صغیر میں غیر ضروری رسم رواج، ذات پات اور جدید دور نے نہ صرف شادی-بیاہ کے خرچ بہت بڑھا دیئے ہیں بلکہ نکاح جیسے فریضہ کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ انہیں غیر ضروری رسومات کو ختم کرنے اور شادیوں کو آسان بنانے کا کچھ دانشمندوں اور تنظیموں نے بیڑہ اٹھایا ہے۔

تنظیم ’آل انڈیا مسلم اصلاحی سوسائٹی‘ کے صدر صدیق انصاری نے میڈیا کو بتایا کہ جلسہ میں معذور، طلاق یافتہ، بیوہ یا ایسے نوجوان جن کی بیوی فوت ہو چکی ہو، وہ بھی اپنا تعارف دیں گے۔ یہ تعارفی جسلہ کوٹہ کے جنگلی شاہ درگاہ کے احاطہ میں منعقد ہو رہا ہے اور اس میں شرکت کے لئے مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور پنجاب سے رجسٹریشن کرائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اجین اور بھوپال میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال اجین میں ’جذبہ‘ نامی تنظیم کی جانب سے ’منت گارڈن‘ میں تعارفی اجلاس منعقد کرایا گیا تھا جس میں 14 ریاستوں کے 1500 سے زیادہ مسلم خواتین و نوجوان اور ان کے والدین نے شرکت کی تھی۔

اسی طرح مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں رواں سال اپریل کے مہینے میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ان خواتین و نوجوان کے لئے منعقد کیا گیا تھا جو اپنے ہم سفر کی وفات کے بعد تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تقریب کی صدارت شہر قاضی نے کی تھی۔ اجلاس میں جن لوگوں کے رشتہ طے ہوئے ان کی اجتماعی شادی مئی ماہ میں کرا دی گئی۔

مسلم اجتماعی شادیوں اور تعارفی اجلاس سے کئی طرح کی غیر ضروری رسومات سے نجات مل سکتی ہے اور فضول خرچی سے بھی بچا جا سکتا ہے اور علما بھی ان کو جائز قرار دیتے ہیں۔ علما کا کہنا ہے کہ لوگ شادیوں کو ’اسٹیٹس سمبل‘ ماننے لگے ہیں جبکہ اسلام میں کسی بھی طرح کی فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے۔

Published: 8 Dec 2018, 4:09 PM