’عدم برداشت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘ حامد انصاری کا اعتراف

’’سیکولرزم آئین کا حصہ ہے اور اگر ہم اس پرعمل نہیں کر رہے تو ہم آئین پر عمل نہیں کر رہے‘‘

user

ایشلن میتھیو

سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی نئی کتاب، جس کو ان کی سوانح حیات کہا جا سکتا ہے، موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کتاب میں جس بےباکی اور ایمانداری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات قلم بند کئے ہیں اس کی وجہ سے الگ الگ حلقوں کے الگ الگ رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔

قومی آواز کے ساتھ اس کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے حامد انصاری نے کہا کہ صرف سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نہیں بلکہ ہمارے کئی ادارے کچھ حد تک ناکام ہو رہےہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ’عدم برداشت‘ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت ہمیشہ سے موجود تھی لیکن تعداد اور کیفیت کے حساب سے اب اس کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اس کو ریاست کی حمایت حاصل ہے اور اس نے اقلیتوں کے لئے صورتحال کو خراب کیا ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ ہونا چاہئے جیسا ہر دوسرے شہری کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہمیں آئین کے دیباچہ کو پڑھنا چاہئے جو واضح طور پر برابری، انصاف اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے اور یہ اپنے آپ میں بہت واضح اور صاف ہے۔ انصاف اور بھائی چارا ہر سماج کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے ساتھی شہری کے ساتھ ساتھی شہری والا برتاؤ نہیں کریں گے تو آپ انصاف نہیں کر رہے اور آج شائد ایسا کم ہو رہا ہے۔

گجرات فساد پر انہوں نے کہا کہ 2002 کے ’گودھرا فساد‘ کے بعد متاثرین کو جو راحت ریاستی حکومت کو پہنچانی تھی وہ نہیں پہنچائی گئی۔ جو متاثر ہوئے ان کو اپنے آپ خود کو کھڑا کرنا پڑا۔ نیت ہونی چائے جو نہیں تھی۔ گودھرا کو 18 سال ہو گئے ہیں اور پوری ایک نسل بڑی ہو گئی ہے اور انہوں نے ناانصافی میں زندہ رہنا سیکھ لیا ہے۔ اقلیتوں کے لئے صورتحال خراب ہوئی ہے۔

سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے کہا کہ لو جہاد، گھر واپسی اور تبدیلی مذہب کے قوانین سب سماج کے حقیقی مسائل ترقی اور غربت سے توجہ ہٹانے کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم آئین کا حصہ ہے اور اگر ہم اس پرعمل نہیں کر رہے تو ہم آئین پر عمل نہیں کر رہے۔

حامد انصاری نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا مذہبی اکثریت کی حکمرانی کو فروغ دینا سماج کو نقصان پہنچائے گا، یہ سماج کے بھائی چارے اور برابری کے خیال کو نقصان پہنچائے گا جس کے نتیجے میں انصاف جو ہر شہری کا حق ہے، اس کو دلانے کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔

چین کے ساتھ تنازعہ پرانہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک صورتحال سے صحیح نمٹا ہے۔ کچھ مسائل ہیں اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حالات قابو سے باہر نہ جائیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے شہریت ترمیمی قانون پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’’کچھ پہلو ہیں جنکی وضاحت ضروری ہے۔ ہم سب ہندوستانی شہری ہیں اور اگر شہریت پر سوال کھڑے کئے گئے تو مجھے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Feb 2021, 9:47 AM