’جنگ کی حمایت کرنے والے ٹی وی اینکرز پر بھروسہ کرنا بے وقوفی‘

ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ کا معیار قدرے خراب ہے، وہ تنازعے پر بات نہیں کر رہے بلکہ تنازعہ کو آئندہ کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کے انتخابی عمل کو تیز کرنے کے ایک عذر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

ہندوستانی صحافیوں پر پاکستان کا سرکاری موقف نہ دکھانے کے حوالے سے دباؤ ڈالا گیا۔ ’این ڈی ٹی وی‘ کے رویش کمار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس کی تعمیل نہ کرنے والے صحافیوں کو سماجی ویب سائٹس پر عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رویش کمار سینئر صحافی ہیں اور ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ان کا شمار پالیسیوں اور سوسائٹی کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والی ایک شخصیت کے طور پر بھی ہوتا ہے۔

سوال: رویش کمار آپ پاکستان اور ہندوستان کے مابین حالیہ کشیدگی میں ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

رویش کمار: اس موجودہ بحران میں ہندوستانی ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ کا معیار قدرے خراب ہے۔ وہ اس تنازعے پر بات نہیں کر رہے بلکہ وہ اس تنازعہ کو آئندہ کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کے انتخابی عمل کو تیز کرنے کے ایک عذر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جنگ کی حمایت عوام کو تقسیم کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے کی جاری ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں بے روزگاری کے مسئلے کا سامنا ہے اور اسی طرح کے بہت سے اور بھی مسائل حالیہ دنوں میں سامنے آئے ہیں۔

ان مسائل پر گزشتہ پانچ برسوں میں بات نہیں ہوئی اور اب ان تمام چیزوں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ذرائع ابلاغ حکمران جماعت کے طرز عمل  کو جائز قرار دینے کے لیے ’ماہرین‘ کو استعمال کر رہا ہے۔ میں نے لوگوں کی درخواست کی ہے کہ وہ جنگ کے لیے اٹھنے والی آوازیں نہ سننے کے لیے اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ تک ٹیلی وژن نہ دیکھیں۔

سوال: اس کا مطلب یہ ہوا کہ صحافی بہت دباؤ میں ہیں؟

رویش کمار: ہاں ہم اس لیے دباؤ میں بھی ہیں کہ عوام سطح پر جنگ کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس رجحان کو کم کرنے کے لیے ہم صرف حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں گے۔ اور یہ ایک بڑا مسئلہ بھی ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ بالاکوٹ میں کی جانے والی کارروائی میں کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام نے یہ تعداد نہیں بتائی تاہم پھر بھی ہندوستانی ٹی وی چینلز پر مرنے والوں کی تعداد چار سو اور کسی پر ساڑھے چھ سو بتائی جا رہی تھی۔ یہ تمام معلومات یہ کہتے ہوئے عام کی گئیں کہ ایک اعلی سرکاری اہلکار نے نام مغفی رکھنے کی شرط پر یہ بتایا ہے۔ بہت سے نیوز چینلز تو تنازعے کو ہوا دینے کے لیے پرانی ویڈیوز تک دکھا رہے ہیں۔ میرے خیال میں نیوز چینلز’’ گرافک وار رومز‘‘ بن چکے ہیں۔

سوال: پاکستان کی جانب سے ہندوستانی پائلٹ کو رہا کرنے کے فیصلے نے کیا رپورٹنگ پر کو اثر ڈالا؟

رویش کمار: ہندوستانی عوام نے پاکستان کے اس جذبے کا خیر مقدم کیا لیکن اس کے بعد چینلز پر چلنے والے اس طرح کی ہیڈ لائنز کہ ’پاکستان نے شکت تسلیم کر لی‘ یا ’پاکستان دب گیا‘ کی وجہ سے عوامی موقف میں تبدیلی آئی۔ میں نے اپنے تینوں ٹی وی شوز میں کہا کہ ایک جانب ہم ہندوستانی فضائیہ کے ہیروازم کو دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہندوستانی میڈیا کی تنزلی ہمارے سامنے ہے۔ میں ابتدا سے ہی کہہ رہا ہوں کہ ان نیوز اینکرز پر بھروسہ نہ کریں۔

ڈی ڈبلیو: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان واقعات کا آئندہ کے ہندوستانی انتخابات پر کوئی اثر پڑے گا؟

رویش کمار: کچھ کہہ نہیں سکتے کہ اس طرح کی رپورٹنگ سے آئندہ انتخابات پر کوئی فرق پڑے گا۔ اگر کوئی بے روز گار ہے تواسے یہ سوچنا ہو گا کہ وہ ووٹ کس بنیاد پر دینا چاہتا یا چاہتی ہے۔ یعنی ووٹ روزگار کی خاطر یا پھر ذرائع ابلاغ میں پاکستان اور ہندوستان کے کشیدگی کے حوالے سے کی جانے والی رپورٹوں کی بنیاد پر۔

بی جے پی کی حکومت اور ان کے ارکان بہت پر جوش ہیں اور ان میں سے بہت کو یقین ہے کہ ہندوستانی حملہ انتخابات میں ان کی نشستوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ الہ آباد جیسے شہروں میں ایسے پوسٹرز لگ چکے ہیں، جن میں نریندر مودی  میراج 2000 جنگی جہاز کے ساتھ موجود ہیں اور فخریہ انداز میں پاکستان پر اپنی فتح کا اظہار کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کی شکل اب مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔

رویش کمار سے ڈی ڈبلیو کے لیے یہ بات چیت مانسی گوپلاکرشنن نے کی تھی۔
Published: 2 Mar 2019, 8:10 PM