ملک کی ترقی میں بے روزگاری بڑی رکاوٹ: راہل

راہل گاندھی نے مودی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگر ملک اپنے نوجوانوں کو روزگار نہیں دے پاتا تو اسے ویژن کیا دے گا۔

تصویر نو جیون
تصویر نو جیون
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے نریندر مودی کی مرکزی حکومت پر سخت حملہ بولتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے میں ناکام ہے وہ نوجوانوں کو مستقبل کےلئے وژن کیا دےگی ۔ انہوں نے کہا صرف یہی نہیں بلکہ مودی حکومت نے شعبہ صحت کا خرچ بھی کم کر دیا ہے۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں طالب علموں سے مخاطب راہل گاندھی نے کہا کہ بےروزگای ہندوستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

برکلے یونیورسٹی کے بعد پرنسٹن یونیورسٹی میں بھی راہل گاندھی نے مودی حکومت پر جم کر نشانہ لگایا ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایک ملک اگر اپنے نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو وہ کوئی ویژن بھی نہیں دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً 30 ہزار نوجوان ملازمت کی تلاش میں نکلتے ہیں جن میں سے بمشکل450 نوجوانوں کو روزگار مل پاتا ہے۔ کانگریس نائب صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ’’میک ان انڈیا‘‘ پروگرام صرف بڑے صنعت کاروں کے لئے ہے جبکہ ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی چھوٹی اور گھریلو صنعت بھی ترقی کرے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں پولرائزیشن (فرقہ پرستی )کی سیاست ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور ہمارے راستے الگ الگ ہو سکتے ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ دونوں ممالک آنے والے وقت میں دنیا کا رخ طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے حوالے سے چین کا نظریہ ایک خاص قسم کا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا ہندوستان کے پاس بھی کوئی مخصوص نظریہ ہے؟ ہمارے اور ان کے درمیان کتنا اشتراک ہونے جا رہا ہے؟ کیا یہ بنیادی سوال ہے؟ لیکن یہ طے ہے کہ چین آج مضبوطی کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے۔ ‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ اس سب کے باوجود ہندوستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت دو بڑی تبدیلیوں کا گواہ بن رہا ہے۔ چین اور ہندوستان میں کھیتوں سے لے کر جدید شہروں تک تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے لیکن ایک ایک تبدیلی پوری طرح سے آزاد ہے جبکہ دوسری طرف کی تبدیلی کنٹرول میں رکھی گئی ہے اور یہ دونوں ممالک دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا،’’چین اور ہندوستان بنیادی طور پر دنیا کو نئی شکل دینے جا رہے ہیں۔ مجھے یہ نہیں کہنا کہ چین غیر جمہوری ہے یا نہیں ، انہوں نے اپنا راستہ اختیار کیا ہے اور ہم نے اپنا ۔ دنیا کے دو سب سے بڑی آبادی والے ان ممالک کے تعلقات میں مقابلہ اور اشتراک دونوں شامل ہیں ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ روزگار کے مواقع کس طرح پیدا کئے جائیں ؟ در اصل ہمیں چین سے مقابلہ کرنا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کارکردگی بہتر نہیں ہے جبکہ چین ون بیلٹ، ون روڈ (او بی او آر ) کے ذریعہ اپنی راہ ہموار کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعلیم کے شعبہ کو بہتر بنانے کے لئے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعاون کے کافی امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، ’’ میرا یہ خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا تال میل ہے اور ہندوستان نے تعلقات کے توازن کو برقرار رکھا ہے۔ ہندوستان کے چین اور روس سے بھی تعلقات رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی ۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ ،’’میرے لئے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات بہت اہم ہیں۔‘‘

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

Published: 20 Sep 2017, 1:51 PM
next