مسلمان لیڈر بنانے کے بجائے خود بنیں لیڈر: اویسی

اسد الدین اویسی نے کہا کہ 11 فیصدی یادوؤں کے ساتھ ملائم سنگھ وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔ مسلمان تو ریاست میں 19 فیصدی ہیں۔ اپنی طاقت کو پہچانیں اور لیڈر بنانے کی بجائے لیڈر بنیں، تبھی تم آگے بڑھ سکو گے۔

اسدالدین اویسی، تصویر یو این آئی
اسدالدین اویسی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

بارہ بنکی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے اتوار کو کہا کہ ریاست میں 19 فیصدی مسلمان ہیں، لیکن آج تک اپنی کوئی سیاسی زمین نہیں بنا سکے ہیں۔ دوسروں کو لیڈر بنانے کے بجائے اب خود لیڈر بننے کے لئے کام کریں۔

یہاں رام نگر کے رامپور گاوں میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے قومی صدر نے کہا کہ 11 فیصدی یادوؤں کے ساتھ ملائم سنگھ وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔ مسلمان تو ریاست میں 19 فیصدی ہیں۔ اپنی طاقت کو پہچانیں اور لیڈر بنانے کی بجائے لیڈر بنیں، تبھی تم آگے بڑھ سکو گے۔ اور تمہاری شناخت ہوگی۔ جب تک تم اپنی طاقت کو نہیں پہچانو گے تب تک تمہارا بھلا ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اناؤ کے کے سبزی فروش فیصل کی پولیس تھانے میں موت ہوجاتی ہے تو کوئی کارروائی نہیں ہوتی وہیں گورکھپور میں پولیس حراست میں ایک گپتا کی موت ہوتی ہے تو ریاست کے وزیر اعلی اس کے گھر جاتے ہیں اور اس کے کنبے کو 50 لاکھ کا چیک دیتے ہیں۔

اویسی نے سوال کیا کہ ایک ریاست میں یہ تفریق کیوں ہے۔ گزشتہ 5 سالوں سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے جو ایک مشن کے طور پر مسلمانوں کو پیچھے کرنے کا کام کر رہی ہے۔ یہاں کے زید پور قصبے میں کپڑے کا بڑا کام ہوتا تھا۔ کپڑا ملک ہی نہیں بیرون ممالک بھی جاتا ہے لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب صرف پاور لوم بچے ہیں بُنکر سماج بے روزگار ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاورلوم کی طرح سلاٹر ہاوسز کو بھی بند کردیا گیا جبکہ اس میں اصلاح کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں آپسی تفریق کو بھلا کر اپنی طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اپنی پارٹی کے امیدوار کو جتا کر ریاست میں اپنی حکومت بنانی ہوگی، تبھی ہمیں اپنا حق مل سکے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔