اندور: آلودہ پانی پینے کے سبب جان گنوانے والوں کو راہل گاندھی نے دیا ایک-ایک لاکھ روپے کا چیک

راہل گاندھی نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے، کسی کو یہ سیاست لگے تو لگے، لیکن لوگوں کو صاف پانی ملنا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اندور میں آلودہ پانی پینے کے سبب جان گنوانے والے ایک متوفی کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/RahulGandhi">@RahulGandhi</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی ہفتہ کو اندور پہنچے۔ راہل گاندھی سب سے پہلے بامبے ہاسپٹل گئے، جہاں انہوں نے آلودہ پانی پینے کے سبب بیمار پڑنے والے لوگوں اور ان کے خاندان والوں سے ملاقات کی۔ اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ یہ نئے ماڈل کی اسمارٹ سٹی ہے۔ پینے کا پانی نہیں ہے، خاندان پانی پینے کے بعد بیمار ہوئے۔ یعنی اندور میں صاف پانی نہیں مل سکتا ہے، یہ ہے اربن ماڈل۔ انہوں نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے، کسی کو یہ سیاست لگے تو لگے، لیکن لوگوں کو صاف پانی ملنا چاہیے۔‘‘

اندور دورہ کے دوران راہل گاندھی بھاگیرتھ پورا بھی گئے اور آلودہ پانی پینے کے سبب جان گنوانے والی گیتا بائی اور جیون لال کے اہل خانہ سے ملے۔ دونوں خاندنوں کو انہوں نے چیک دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی سنسکار گارڈن پہنچے، یہاں انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی۔ تمام کو راہل گاندھی نے ایک لاکھ اور امنگ سنگھار نے 50-50 ہزار روپے کے چیک دیے۔ اس دوران راہل گاندھی کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش دگ وجئے سنگھ، ریاستی انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، مدھیہ پردیش اسبملی میں حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار اور اجے سنگھ رہے۔ واضح رہے کہ اندور کے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی پینے کے سبب 24 اموات ہوئی ہیں۔


ایڈوکیٹ وجے سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ جس میں بھاگیرتھ پور سانحہ کے ایک رکن کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’راہل گاندھی نے ہمارا درد سنا، ہماری آواز اٹھانے کا بھروسہ دیا اور ایک لاکھ روپے کا چیک بھی دیا۔ سنگار صاحب کی طرف سے بھی 50 ہزار کا چیک دیا گیا‘‘۔ وجے سنگھ نے اس کے بعد کیپشن میں موازناتی انداز میں لکھا کہ ’’ایک طرف بی جے پی وزیر کا جواب ’گھنٹہ‘، ادھر راہل گاندھی کا جواب ’مدد‘۔ یہی فرق ہے، انا بمقابلہ ہمدردی اور نفرت بنام انسانیت میں۔‘‘

بھاگیرتھ پورا میں متوفیوں کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ان کے خاندانوں میں لوگوں کی موت ہوئی ہے، لوگ بیمار ہوئے ہیں۔ یہ کہا جاتا تھا کہ ملک کو اسمارٹ سٹی دیے جائیں گے۔ یہ نئے ماڈل کی اسمارٹ سٹی ہے، پینے کا پانی نہیں ہے۔ لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’تمام لوگ پانے پینے کے بعد بیمار ہوئے، یعنی اندور میں صاف پانی نہیں مل سکتا ہے۔ پانی پی کر لوگ مرتے ہیں، یہ ہے اربن ماڈل۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ صرف اندور کا معاملہ نہیں ہے، الگ الگ شہروں میں یہی ہو رہا ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے۔ حکومت میں کوئی تو ذمہ دار ہوگا، جس نے یہاں یہ کام کروایا ہے۔ کوئی تو ذمہ داری حکومت کو لینی چاہیے۔ لوگوں نے جو علاج کرایا ہے، موتیں ہوئی ہیں ان کے لیے حکومت کو معاوضہ تو دینا چاہیے۔‘‘


کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’میں انہیں سپورٹ کرنے آیا ہوں۔ میں اپوزیشن کا لیڈر ہوں۔ یہاں ان کے مسائل کو اٹھا کر ان کی مدد کرنے آیا ہوں۔ اس میں کوئی غلط کام نہیں ہے۔ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک میں لوگوں کو صاف پانی نہیں مل رہا ہے تو ان کی مدد کروں۔ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ آپ ان کو صاف پانی فراہم کرانے میں مدد کریے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔