اندرا کو ملک کے سیکولر کردار کی فکر اپنی جان سے زیادہ تھی: ظفر آغا

ہندوستان کی سابق آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی

اندرا گاندھی کو ملک کے سیکولر کردار کی فکر اپنی جان سے زیادہ تھی، اسی لیے انھوں نے سکھ گارڈ ہٹائے نہیں اور جان گنوانی منظور کرلی۔

یہ ذکر ہے آج سے 34 برس قبل اسی تاریخ یعنی 31 اکتوبر 1984 کا۔ میں کوئی گیارہ بجے دن میں اپنے گھر سے آفس کے لیے نکلا۔ بس اسٹینڈ پر پہنچا، جلد ہی بس آ گئی۔ لیکن معمول کے برخلاف اس روز بس کچھ خالی تھی۔ راستے میں سڑکیں بھی کچھ خالی خالی نظر آ رہی تھیں۔ لوگ جلدی جلدی کچھ عجلت میں نظر آ رہے تھے۔ ماحول کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بات کیا ہے۔ خیر، میں آفس پہنچا۔ ابھی میں نے آفس میں قدم رکھا ہی تھا کہ میرے سینئر ساتھی آفس سے باہر آتے نظر آئے۔ مجھے دیکھ کر حیرت سے بولے ’’تم کو خبر نہیں!‘‘ میں نے چونک کر سوال کیا ’’کیا ہوا؟‘‘ جواب ملا ’’ارے بھائی اندرا گاندھی کو گولی لگ گئی۔‘‘

بس یوں سمجھیے کہ پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اندرا گاندھی کو گولی کس نے ماری! میرے ساتھی نے پورا قصہ بتایا کہ خود اندرا گاندھی کے گھر پر ان کے دو سکھ گارڈس نے ان پر اندھا دھند گولیوں کی بارش کر دی اور اب وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں ہیں۔ بس ہم انہی کے ساتھ الٹے پاؤں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پہنچ گئے۔ وہاں عجب عالم تھا۔ لگتا تھا ساری دہلی انسٹی ٹیوٹ چلی آ رہی ہے۔ صحافی تو سینکڑوں کی تعداد میں اکٹھا تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں گیٹ بند کر دیئے گئے۔

پتہ چلا اندرا گاندھی کو چھٹی منزل پر لے جایا گیا ہے اور وہاں ان کا آپریشن چل رہا ہے۔ جس کو دیکھو وہ اندرا جی کی تازہ کیفیت جاننے کی فکر میں تھا۔ لیکن کچھ سہی صورت حال، پتہ نہ چلتی تھی۔ یکایک کوئی دوپہر ایک ڈیڑھ بجے کے درمیان میری نگاہ اپنے سینئر ساتھی صحافی جان دیال پر پڑی۔ وہ بہت تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مجھے فکر ہوئی کہ جب سب صحافی یہاں اکٹھا ہیں تو وہ کیوں واپس جا رہے ہیں۔ ضرور کوئی بات ہوگی! میں نے لپک کر جان سے پوچھا، ارے بھائی کہاں چلے؟ ان کے منھ سے چھوٹتے ہی نکلا ’’اندرا گاندھی مر گئیں۔‘‘ میں نے سوال کیا کیسے پتہ؟ انھوں نے بتایا کہ مارک تلی نے بی بی سی پر یہ خبر دی ہے کہ اندرا گاندھی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اتنے میں بی بی سی کے ڈپٹی بیورو چیف ستیش جیکب نظر آئے۔ میں جلد ان کے پاس پہنچا اور ان سے اندرا گاندھی کی خیریت معلوم کی۔ ستیش نے اس خبر کی تائید کر دی۔

لیکن ادھر آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن خاموش تھے۔ مگر ایک گھنٹے کے اندر تمام لیڈران آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ پہنچنے لگ گئے۔ دو بجے کے قریب صدر ہندوستان گیانی ذیل سنگھ کی گاڑی آئی۔ وہ اندر آئے اور جلد ہی واپس نکل گئے۔ لیکن ان کی گاڑی جیسے ہی گیٹ کے باہر نکلی اس پر ایک دو پتھر پھینکے گئے۔ کچھ ہی مدت میں کلکتہ سے لوٹ کر راجیو گاندھی ائیر پورٹ سے سیدھے اسپتال پہنچے۔ لیکن وہ بھی منٹوں میں واپس ہو گئے۔ پتہ چلا اندرا گاندھی کو اتنی گولیاں لگیں ہیں کہ ڈاکٹر کسی کو دیکھنے نہیں دے رہے ہیں۔ اسی ہنگامے کے دوران کوئی چار بجے آل انڈیا ریڈیو نے بھی اندرا گاندھی کے انتقال کا اعلان کر دیا۔ بس منٹوں میں دہلی میں سکھ مخالف فساد پھوٹ پڑے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے تین دن تک دہلی کو جلتے اور سکھوں کو مرتے دیکھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عوام میں یہ غیر منظم سکھ مخالف غصہ پورے ہندوستان میں پھیلتا گیا۔

خیر، ایک طرف یہ فساد اور دوسری طرف اندرا گاندھی کیسے مریں۔ ان کو کس نے مارا یہ بحث جاری ہو گئی۔ جلد ہی پتہ چل گیا کہ ان کے دو سکھ گارڈ ستونت سنگھ اور بینت سنگھ نے اس وقت اندرا گاندھی پر اندھا دھند گولیاں چلائیں جب وہ اپنے گھر میں گیٹ کے پاس سے پیدل چل کر دوسری جانب جا رہی تھیں۔ اب یہ بحث شروع ہو گئی کہ آخر جب گولڈن ٹیمپل میں آپریشن بلو اسٹار ہو چکا تھا تو اندرا گاندھی نے اپنی سیکورٹی میں دو نوجوان سکھوں کو رکھنے کی اجازت کیوں دے دی!

جلد ہی یہ راز بھی کھل گیا۔ کسی اور نے نہیں بلکہ خود میرے اخبار یعنی ’Patriot‘ کی چیئرپرسن اور مشہور و معروف مجاہد جنگ آزادی ارونا آصف علی نے یہ راز کھولا۔ اندرا جی کی موت کے دو دن بعد ارونا جی نے دوردرشن کو ایک انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے یہ بتایا کہ اندرا گاندھی کی موت سے دو دن قبل وہ ان سے ملنے گئیں۔ ان کی نگاہ سکھ باڈی گارڈ پر پڑی۔ بقول ارونا جی ’’مجھے تشویش ہوئی۔ میں نے اندر پہنچتے ہی اندرا سے کہا، اندو تم سکھ گارڈ ہٹا دو۔‘‘ یہ سنتے ہی اندرا ناراض ہو گئیں اور خفگی سے بولیں: آپ کیسی بات کر رہی ہیں۔ میں وزیر اعظم ہو کر سکھ گارڈ ہٹا دوں تو بھلا پوری سکھ قوم پر اس کا کیا اثر ہوگا! خیر ارونا آصف علی خاموش ہو گئیں اور پھر دو روز بعد 31 اکتوبر 1984 کے روز انہی سکھ باڈی گارڈوں نے اندرا گاندھی پر گولیوں کی بارش کر دی اور اس طرح ہندوستان کی عظیم الشان لیڈر کی موت ہو گئی۔

ارونا آصف علی کی بات کی تصدیق اس طرح ہوئی کہ بالکل یہی واقعہ اندرا گاندھی کی عزیز دوست پوپل جیکر نے بھی ایک انٹرویو میں دہرائی۔ انھوں نے بھی اندرا گاندھی کو سکھ باڈی گارڈ ہٹانے کو کہا تھا اور ان کو بھی اندرا گاندھی نے وہی جواب دیا تھا جو ارونا آصف علی کو دیا تھا۔ ان کی موت کے کوئی تین برس بعد ایک روز میں کملا پتی ترپاٹھی سے ملنے گیا۔ ان سے باتوں کے دوران اندرا گاندھی کا ذکر چھڑ گیا۔ وہ جذباتی ہو گئے۔ مجھے بتایا کہ میں جنگ آزادی کے دوران جواہر لال نہرو سے ملنے الٰہ آباد آنند بھون جاتا تھا۔ ایک دن جیسے ہی آنند بھون میں گھسا تو دیکھا جواہر لال حیرانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ اتنی دیر میں اندرا سائیکل چلاتی ہوئی سامنے نظر آ گئیں۔ جواہر لال جی نے مجھ سے (کملا پتی) کہا تم یہیں رکو اور نگاہ رکھو اندرا کو چوٹ نہ آنے پائے۔ انھوں نے ابھی سائیکل چلانی شروع کی ہے۔ خیر، پھر ان کی موت کا ذکر ہوا۔ کملا پتی غصہ ہو کر بولے، میں نے ان کو منع کیا تھا کہ سکھ گارڈ مت رکھیے، مگر مانتی نہیں اور آخر ماری گئیں۔

یہ تھیں اندرا گاندھی! دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود انھوں نے اپنے سکھ گارڈ اس لیے نہیں ہٹائے کہ اس سے پوری سکھ قوم پر اچھا اثر نہیں پڑے گا اور اس وضعداری میں ان کی جان چلی گئی۔ حالانکہ انہی اندرا نے گولڈن ٹیمپل تک میں فوج کے داخلے کی اجازت دے دی، وہ اس لیے کہ وہ ملک کی سالمیت کا معاملہ تھا اور بھنڈران والے نے ملک کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن جب وہ مارا گیا تو وہ پوری سکھ قوم کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہتی تھیں چاہے اس کے لیے خود ان کی اپنی جان کیوں نہ چلی جائے۔

افسوس کہ ان کی پارٹی کانگریس نے اندرا گاندھی کی آنکھ بند ہوتے ہی ان کی موت کی سزا دہلی کے تمام سکھوں کو دی جس میں سیکڑوں معصوم سکھ مارے گئے۔ اگر اندرا ہوتیں تو وہ ہرگز نہ ہوتا جو 31 اکتوبر سے 3 نومبر 1984 کو دہلی میں سکھوں کے ساتھ ہوا۔ آخر اندرا کو ملک کے سیکولر کردار کی فکر اپنی جان سے زیادہ تھی، اسی لیے انھوں نے سکھ گارڈ ہٹائے نہیں اور اپنی جان گنوانی منظور کر لی۔

سب سے زیادہ مقبول