ہندوستانی سائنسدانوں کا کمال، کورونا وائرس کی تصویر مائیکرواسکوپ میں قید

سائنسدانوں نے مائیکرواسکوپ سے لی گئی تصویر جاری کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں بہت فائدہ مل سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا بدحال ہے اور ہندوستان میں بھی اس کا اثر بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے ہندوستانی ڈاکٹرس اور سائنسداں اپنا پورا زور لگا رہے ہیں۔ اس درمیان اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ہندوستانی سائنسدانوں نے مائیکرواسکوپ میں کورونا وائرس کی پہلی تصویر قید کر لی ہے۔ خبر رساں ادارہ اے این آئی کے ذریعہ یہ تصویر ٹوئٹ کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سائنسدانوں نے مائیکرواسکوپ سے لی گئی تصویر جاری کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں بہت فائدہ مل سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ ہندوستان میں اس کے علاج کے لیے ویکسین بنانے میں بھی کامیابی مل سکتی ہے۔ موصولہ خبروں کے مطابق اس تصویر کی بنیاد پر سائنسدانوں نے آگے کا ریسرچ ورک بھی شروع کر دیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس کا پہلا معاملہ 30 جنوری کو کیرالہ سے آیا تھا۔ سائنسدانوں نے اس خطرناک وائرس کی زد میں آنے والے ملک کے پہلے شخص کے گلے سے کورونا وائرس کا سیمپل لیا تھا۔ انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ (آئی جے ایم آر) کے تازہ شمارہ میں اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ شائع کیا گیا ہے۔

بہر حال، کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کرنے کے مقصد سے ہندوستان، عالمی صحت ادارہ (ڈبلیو ایچ او) اور دنیا کے دیگر ممالک زور و شور سے کام کر رہے ہیں۔ کئی ممالک کے سائنسداں مشترکہ طور پر بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس درمیان فرانس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اس وائرس کی نئی دوا دریافت کر لی ہے۔ شروعاتی تجربہ میں پتہ چلا ہے کہ اس دوا سے 2 دن کے اندر انفیکشن کو سنگین حالت میں پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔ فرانس کے انسٹی ٹیوٹ ہاسپیٹل یونیورسٹی کے انفیکشن بیماریوں کے ماہر ریسرچ پروفیسر ڈیڈائر راؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے نئی دوا کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ انھوں نے دوا کے ٹرائل کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے۔