انسانی حقوق کمیشن نے مغربی بنگال میں تشدد پر از خود نوٹس لیا

ضلعی انتظامیہ اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثرہ افراد کے انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

فائل علامتی تصویر
فائل علامتی تصویر
user

یو این آئی

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد پر از خود نوٹس لیتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن نے منگل کے روز ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے اور ریاست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔

کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ "کمیشن نے شہریوں کے زندگی کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے پر از خود نوٹس لیا ہے اور اپنے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (انوسٹی گیشن) سے کہا ہے کہ وہ کمیشن کے تحقیقاتی ڈویژن کے افسران کی ایک ٹیم تشکیل دیں۔ ساتھ ہی موقع پر حقیقت کی چھان بین کرکے جلد سے جلد یا دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کریں۔

انہوں نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مبینہ طور پر سیاسی کارکنوں کی ایک دوسرے کے ساتھ جھڑپ ہوئی، پارٹی کے دفاتر کو آگ لگا دی گئی، کچھ مکانات توڑ دیئے گئے اور قیمتی سامان بھی لوٹ لیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ "ضلعی انتظامیہ اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثرہ افراد کے انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی ہے"۔

واضح رہے انتخابی نتائج کے بعد سے بی جے پی بنگال میں جیتنے والی ترنمول کانگریس پر الزام لگا رہی کہ اس کے کارکنان نے بی جےپی حامیوں کےخلاف تشدد شروع کیا ہوا ہے اور اس کے دفاتر میں آ گ لگا دی ہے۔ بی جےپی کے سربراہ جےپی نڈا دو روزہ دورہ پر مغربی بنگال گئے ہوئے ہیں اور آج اس تشدد کے خلاف ملک گیر مظارہ کا بھی اعلان کیا ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 May 2021, 5:11 AM