ہندوستانی فوج نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار، دنیا میں پہلی بار ریمجیٹ تکنیک والے 155 ایم ایم گولے ہوں گے تعینات
اس نئی تکنیک کو آرمی ٹیکنالوجی بورڈ سے منظوری مل چکی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سسٹم فوج میں پہلے سے موجود سبھی 155 ایم ایم توپوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی فوج جلد ہی ایک ایسا قدم اٹھانے جا رہی ہے، جو دنیا کی فوجی تاریخ میں مثال بنے گا۔ ذرائع کے حوالہ سے میڈیا کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فوج ریمجیٹ تکنیک سے مزین 155 ایم ایم آرٹیلری شیل کو تعینات کرنے کی تیاری میں ہے۔ یہ تکنیک آئی آئی ٹی مدراس اور ہندوستانی فوج کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اور اس سے توپوں کی مارنے کی صلاحیت 30 سے 50 فیصد تک بڑھ جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئی تکنیک کو آرمی ٹیکنالوجی بورڈ سے منظوری مل چکی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سسٹم فوج میں پہلے سے موجود سبھی 155 ایم ایم توپوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی نئی توپ خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ موجودہ اسلحوں سے ہی زیادہ دور تک درست حملہ ممکن ہوگا۔
یہ ایک بڑی کامیابی اس لیے مانی جا رہی ہے، کیونکہ 2013 کی سی اے جی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ ہندوستانی فوج کے پاس اس وقت صرف 10 دن کی شدید جنگ کے لیے ہی گولہ بارود موجود تھا، جبکہ طے پیمانہ 40 دنوں کا تھا۔ اب ریمجیٹ جیسے جدید اور سودیشی گولے نہ صرف مارنے کی صلاحیت بڑھائیں گے، بلکہ طویل وقت تک جنگ لڑنے کی تیاری کو بھی مضبوط کریں گے۔ ریمجیٹ پروجیکٹائل پوری طرح سودیشی تکنیک پر مبنی ہے اور اسے ملک میں ہی بنایا جائے گا۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور بحران کے وقت گولہ بارود کی کمی جیسی حالت سے بچا جا سکے گا۔ یہ تکنیک مستقبل کی جنگوں میں ہندوستانی فوج کو طویل دوری، تیز رد عمل اور زیادہ اثردار فائر پاور فراہم کرے گی۔
ریمجیٹ آرٹیلری شیلس کی تعیناتی کے ساتھ ہندوستان ’نیکسٹ جنریشن وارفیئر‘ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہا ہے اور خود کفیل ہندوستان کے ہدف کو مضبوطی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تکنیک فوج میں پہلے سے استعمال ہو رہی ایم 777، دھنش اور دیگر 155 ایم ایم ہووتزر توپوں کے ساتھ پوری طرح تال میل بٹھائے گی۔ یعنی نئی توپوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس سے لاگت اور لاجسٹک بوجھ دونوں کم ہوں گے۔
یہ تکنیک عالمی سطح پر بھی بے حد خاص تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ توپ سے داغے جانے والے گولے میں ریمجیٹ انجن کا کامیاب استعمال ہے۔ اب تک ریمجیٹ تکنیک کا استعمال خاص طور سے میزائل اور ہائی اسپیڈ طیاروں میں ہوتا رہا ہے۔ ریمجیٹ انجن میں کوئی گھومنے والا پرزہ نہیں ہوتا۔ یہ گولے کی تیز رفتار کا استعمال کر کے ہوا کو دباتا ہے اور اسی سے طاقت پیدا کرتا ہے۔ جیسے ہی گولہ توپ سے نکل کر بہت تیز رفتار پکڑتا ہے، اس کے اندر موجود چھوٹا ریمجیٹ انجن فعال ہو جاتا ہے اور لگاتار تھرسٹ دیتا رہتا ہے۔ اس سے گولہ زیادہ دور تک، زیادہ تیزی سے اور امید سے زیادہ سپاٹ راستہ میں اڑتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔