ہاکی ورلڈ کپ: کیا 43 سال کی خطابی خشک سالی ختم کر پائے گا ہندوستان!

ورلڈ کپ جیتنے والے چار دیگر ممالک میں پاکستان (4 بار)، ہالینڈ (3 بار)، آسٹریلیا (3 بار) اور جرمنی (2 بار) شامل ہیں۔ آسٹریلیا گزشتہ دو بار کا چمپئن ہے اور وہ خطابی ہیٹ ٹرک بنانے کے ارادے سے اترے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بھونیشور: اڑیسہ کے بھونیشور شہر میں ہاکی ورلڈ کپ کا بگل بج چکا ہے اور میزبان ہندوستان 43 سال کی خطابی خشک سالی ختم کرنے کے ارادے سے کلنگا اسٹیڈیم میں اتریگا۔

ہندوستان کو ٹورنامنٹ کے پول سی میں بیلجیم، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ہندوستان کا پہلا مقابلہ بدھ کو جنوبی افریقہ سے ہوگا اور اسی دن بیلجیم اور کینیڈا کی ٹیمیں بھی آمنے سامنے ہوں گی۔ ہندوستان کو گھریلو ناظرین کے بے پناہ تعاون سے یہ مقابلہ جیتنے میں زیادہ پریشانی نہیں ہونا چاہیے۔

میزبان ہندوستان ورلڈ کپ کا خطاب جیتنے والے پانچ ممالک میں شامل ہے اور اس نے اپنا واحد خطاب 1975 میں جیتا تھا لیکن اس کے بعد سے ہندوستان کبھی سیمی فائنل میں نہیں پہنچ پایا۔ ہندوستان نے 1971 میں پہلے ورلڈ کپ میں تیسری، 1973 میں دوسرے ورلڈ کپ میں دوسری اور 1975 میں تیسرے ورلڈ کپ میں پہلا مقام حاصل کیا تھا۔ ہندوستان کا یہی آخری عالمی اعزاز تھا۔

ورلڈ کپ جیتنے والے چار دیگر ممالک میں پاکستان (4 بار)، ہالینڈ (3 بار)، آسٹریلیا (3 بار) اور جرمنی (2 بار) شامل ہیں۔ آسٹریلیا گزشتہ دو بار کا چمپئن ہے اور وہ خطابی ہیٹ ٹرک بنانے کے ارادے سے اترے گا۔

ٹورنامنٹ کا فارمیٹ دلچسپ ہے۔ ہر پول میں سب سے اوپر رہنے والی ٹیم براہ راست کوارٹر فائنل میں پہنچے گی جبکہ پول میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہنے والی ٹیم دیگر پول کی دوسرے اور تیسرے مقام پر رہنے والی ٹیموں کے ساتھ کراس اوور کے میچ کھیلے گی۔ کراس اوور کے میچ جیتنے والی ٹیم پھر کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں سے کھیلے گی۔

عالمی درجہ بندی میں پانچویں نمبر کی ٹیم ہندوستان کی پوری کوشش رہے گی کہ وہ اپنا پول ٹاپ کرے اور براہ راست کوارٹر فائنل میں پہنچے۔ لیکن اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تیسری رینکنگ کی ٹیم اور اولمپک سلور فاتح بیلجئیم رہے گی جو اپنے پہلے عالمی خطاب کی تلاش میں ہے۔ ہندوستان کے پول کی دو دیگر ٹیمیں کینیڈا عالمی رینکنگ میں 11 ویں اور جنوبی افریقہ 15 ویں نمبر پر ہیں۔

15 ہزار شائقین کی صلاحیت والے کلنگا اسٹیڈیم میں ہندوستانی ٹیم کو زبردست حمایت ملے گی جو مخالف ٹیم کا حوصلہ پست بھی کر سکتی ہے۔ ہندوستان نے ورلڈ کپ سے پہلے ایک پریکٹس میچ میں اولمپک چمپئن ارجنٹائن کو 5-0 سے شکست دی تھی لیکن پریکٹس میچ اور ورلڈ کپ میچ میں کافی فرق ہوتا ہے۔

کوچ هریندر سنگھ کی ہندوستانی ٹیم ایشیائی کھیلوں میں اپنا خطاب گنوانے اور کانسی تمغہ پر محدود رہنے کے بعد نفسیاتی طور پر دباؤ میں رہے گی۔ ہندوستانی حامیوں کو ٹیم سے میڈل سے کم کچھ بھی منظور نہیں ہو گا۔ کوچ ہریندر اور ٹیم کے کچھ کھلاڑی دو سال پہلے لکھنؤ میں جونیئر ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ ٹیم کو یہ معلوم ہے کہ ٹورنامنٹ میں اچھا آغاز ان کے لئے کامیابی کا راستہ کھول سکتا ہے۔ لیکن کوچ ہریندر چاہیں گے کہ ان کے کھلاڑی اس بڑے اسٹیج پر ان کے لئے بہترین مظاہرہ کریں اور ماحول کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔

کپتان من پریت سنگھ پر کروڑوں ہندوستانیوں کی امیدوں کا دارومدار رہے گا۔ 18 رکنی ہندوستانی ٹیم کے نائب کپتان چگلنسانا سنگھ كگجم ہیں۔ ہندوستانی ٹیم کے قلعہ کی ذمہ داری تجربہ کار گول کیپر اور سابق کپتان پی آر شريجیش پر ہے۔ ٹیم میں دوسرے گول کیپر کرشن بہادر پاٹھک ہیں۔

اڑیسہ کے تجربہ کار دفاعی کھلاڑی بیریندر لاكڑا کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ گذشتہ ماہ مسقط میں ہوئے ایشیائی چمپئنز ٹرافی سے باہر رہے تھے اور ریہیبی لٹیشن کے بعد اپنی ہی ریاست کے امت روهداس، سریندر کمار، كوٹھاجيت سنگھ اور جونیئر ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے هرمنپريت سنگھ کے ساتھ ہندوستان کے ڈیفنس کو مضبوطی دیں گے۔

مڈفیلڈ میں من پریت سے کافی امیدیں رہیں گی جو چمپئنز ٹرافی میں اہم رہے تھے۔ چگلین کے علاوہ نوجوان سمت جے شرما اور گذشتہ ماہ بین الاقوامی ڈیبو کرنے والے ہردک سنگھ کھیلیں گے۔ فارورڈ لائن میں آكاش ديپ سنگھ، دلپريت سنگھ، للت اپادھیائے اور جونیئر ورلڈ کپ کے مندیپ سنگھ اور سمرنجيت سنگھ موجود رہیں گے۔

کوچ ہریندر سنگھ نے کہاکہ ہم نے عالمی کپ کے لیے اپنی بہترین ٹیم ترتیب دی ہے۔ ہماری ٹیم میں تجربہ کار اور نوجوان چہروں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس ٹیم کو موجودہ فارم اور فٹنس کے مطابق منتخب کیا گیا ہے۔ عالمی کپ سے پہلے ان تمام کھلاڑیوں نے اپنی فارم اور اچھا کھیل دکھایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کے لیے یہ بہترین مظاہرہ کریں گے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم میں آسٹن اسمتھ، ریٹ هلكیٹ اور کپتان ٹم ڈرمڈ کے طور پر تجربہ کار کھلاڑی ہیں جو موقع کا فائدہ اٹھانے میں مہارت رکھتے ہیں اور ہندوستان کو ان سے محتاط رہنا ہوگا۔ اولمپک سلور فاتح بیلجئم کے پاس متعدد عالمی معیار کھلاڑی ہیں جن میں آرتھر وان ڈورین اور ونسنٹ وناشچ شامل ہیں جو 2017 میں بالترتیب ایف آئی ایچ پلیئر اور گول کیپر آف دی ایئر رہ چکے ہیں۔ کینیڈا کے پاس اسکاٹ ٹپر کے طور پر غضب کے پنالٹی کارنر کے ماہر ہیں اور کینیڈا کی ٹیم اس کھلاڑی کے دم پر الٹ پھیر کر سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Nov 2018, 8:09 PM