ہندوستان نے پاکستان کو دی وارننگ، کہا "پی او کے خالی کرو، ورنہ..."

میجیتو ونیتو نے ہندوستان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر کے ان سبھی علاقوں کو خالی کردینا چاہیے جہاں اس نے غیرقانونی طور سے قبضہ کر رکھا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نیویارک: ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو محض واحد تنازعہ قرار دیتے ہوئے تلخ لہجے میں پڑوسی ملک سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو پوری طرح سے خالی کرے اور ایک عام ملک بننے کے لئے دہشت گردوں کو اخلاقی، مالی اور دیگر طرح سے حمایت دینا بند کرے۔

ہندوستان نے اقوام متحدہ کے 75 ویں سیشن میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کو یہ وارننگ دی۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری میجیتو ونیتو نے ہندوستان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر کے ان سبھی علاقوں کو خالی کردینا چاہیے جہاں اس نے غیرقانونی طور سے قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کشمیر میں اب صرف ایک ہی واحد تنازعہ وہاں کے اس حصے سے جڑا ہے جو ابھی پاکستان کے قبضے میں ہے۔‘‘ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کا ناقابل تقسیم حصہ ہے اور وہاں نفاذ قانون ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو اپنے خطاب کے دوران کشمیر کے سلسلے میں ہندوستان مخالف بیان دیا تھا جس کا ہندوستان نے سخت اعتراض کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو پانچ اگست 2019 کو کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے والے فیصلے کو رد کرنا ہوگا۔‘‘

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے پاکستانی وزیراعظم کے خطاب کے فوراً بعد ٹوئٹ کیا اور اسے ایک نیا اسٹریٹیجک پینترہ بازی قرار دیتے ہوئے ان کی تقریر کو شاطرانہ جھوٹ، ذاتی حملے اور جنگ کے لئے بھڑکانے والا قرار دیا۔‘‘

وینیتو نے کہا کہ اقوام متحدہ نے مسلسل ایسے ڈنگ ہانکنے والوں کے بارے میں سنا ہے جس کے پاس خود دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے اور اس کے پاس بولنے کے لئے کوئی کامیابی نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کے لئے کوئی اچھا مشورہ ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اس اقوام متحدہ کے اسٹیج پر جھوٹ، ذاتی مداخلت اور جنگ کے لئے بھڑکاؤ جیسے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج زہر اگلنے والے یہ وہی لیڈر ہیں جنہوں نے 2019 میں عوامی طور سے قبول کیا ہے کہ ان کے ملک میں ابھی بھی تقریباً 30-40 ہزار دہشت گرد ہیں جنہوں نے پاکستان کے ذریعہ تربیت حاصل کی ہے اور ان دہشت گردوں نے افغانستان اور ہندوستان کے جموں وکشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کو انجام دیا ہے۔‘‘

next