پاکستان کی کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی مشروط اجازت، ہندوستان کا انکار!

حکومت نے پاکستان سے وہاں کی جیل میں بند ہندستانی شہری کلبھوشن جادھو کو ’بلارخنہ اور خوف سے پاک‘ سفارتی رسائی مہیا کرانے کے لئے کہا ہے۔

تصویر سوشل میڈی
تصویر سوشل میڈی

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کیمروں کی نگرانی اور پہرے میں کلبھوشن جادھو سے ہندوستانی سفارت کاروں کی ملاقات کی پاکستان کی تجویز کو ہندوستان نے نامنظور کر دیا ہے۔ ہندوستان نے گذارش کی ہے کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کو ’بلارخنہ اور خوف سے پاک‘ سفارتی رسائی مہیا کرائے، جوکہ عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلہ کے عین مطابق ہو۔ اس کی وجہ سے کلبھوشن جادھو سے ہندوستانی سفارت کاروں کی ملاقات جمعہ کے روز ممکن نہیں ہو پائی۔

سرکاری ذرائع نے جمعہ کو کہا کہ حکومت نے جمعرات کو پاکستان سے کہا کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کے مطابق کلبھوشن جادھو کو خوف سے پاک ماحول میں ہندستانی سفارتکاروں سے ملاقات کرنے کی سہولت مہیا کرائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے حکومت کے اس موقف پرابھی کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے 18 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کے بعد مسٹر جادھو کو ویانا معاہدہ کے آرٹیکل 36کے پیرا (بی) کے مطابق اس کے حقوق سے واقف کرا دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو کہاکہ ہم نے پاکستان میں ہندستان کے سفیر کو کلبھوشن جادھو کو اس جمعہ کو سفارتی رسائی مہیا کرانے کی تجویز دی ہے۔

اس کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی طرف سے ایک تجویز ملی ہے۔ ہم بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کے مطابق اس تجویز پر غور کررہے ہیں۔ ہم سفارتی چینل کے ذریعہ پاکستان کو جواب دیں گے۔

Published: 2 Aug 2019, 9:10 PM