کورونا: 2 مہینے تک سوتی رہی مودی حکومت، اب ہیلتھ پیکیج کا نام پر دیئے محض 15 ہزار کروڑ

ملک میں سب سے پہلا کورونا کا مریض 30 جنوری کو سامنے آیا تھا، اس کے بعد 53 دنوں تک مودی حکومت سوتی رہی۔ اور جب حالات بے قابو ہونے لگے تو لاک ڈاؤن کر ہیلتھ پیکیج کے لیے صرف 15 ہزار کروڑ دیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کا قہر اب تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو چکا ہے۔ اس بارے میں چین نے دنیا کو 31 دسمبر 2019 کو آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک ہفتہ بعد اس وائرس کی شناخت ہوئی اور اسے کووِڈ-19 نام دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے ہی دن ہندوستان میں ایک مشترکہ مانیٹرنگ گروپ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ یعنی اس طرح دیکھیں تو ہندوستان نے اس وائرس سے لڑنے کی تیاری اس وقت شروع کر دی تھی جب پوری دنیا اس وائرس کا مذاق اڑا رہی تھی۔

اس میٹنگ کے بعد 30 جنوری کو ہندوستان میں کورونا سے متاثر پہلے مریض کا پتہ چلا اور اس کے 23 دن بعد حکومت نے میڈیکل انفراسٹرکچر اور وینٹی لیٹرس وغیرہ بڑھانے کے لیے فنڈ کا اعلان کیا۔ پی ایم مودی نے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا "مرکزی حکومت نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے اور اس سے جڑے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے 15 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے۔ یہ فنڈ ٹیسٹ سہولیات میں اضافہ، نجی تحفظ کے لیے پروڈکٹس لانے، آئسولیشن بیڈ، آئی سی یو بیڈ، وینٹی لیٹر اور دیگر ضروری سامان وغیرہ مہیا کرانے میں خرچ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ٹریننگ بھی دی جائے گی۔"

پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ریاستی حکومتوں سے یہ یقینی بنانے کی گزارش کی ہے کہ فی الحال صحت خدمات اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔ صرف یاد دہانی کے لیے یہاں بتانا ضروری ہے کہ یہ رقم یعنی 15 ہزار کروڑ روپے ملک کے سالانہ صحت بجٹ کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔

اس درمیان کابینہ سکریٹری راجیو گوبا نے وینٹی لیٹر بنانے والی کمپنیوں سے پروڈکشن بڑھانے کے لیے کہا۔ ایک ذرائع کے مطابق چار پانچ کمپنیوں سے پروڈکشن کو بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے۔ ایک کمپنی نے تین ہفتہ میں 5 ہزار وینٹی لیٹر کا پروڈکشن کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ دوسری نے اگلے دو مہینوں میں 10 ہزار وینٹی لیٹر کی پیشکش کی ہے۔ وہیں تیسری کمپنی نے 4 ہزار وینٹی لیٹر فراہم کیے جانے کی بات کہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق فی الحال ملک میں کل وینٹی لیٹروں کی تعداد 40 ہزار سے 50 ہزار ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی کوئی آفیشیل جانکاری نہیں ہے۔ وینٹی لیٹرس کے علاوہ حکومت نے نیتی آیوگ کو کووِڈ-19 مریضوں کے علاج کے لیے ضروری اور اہم مشینوں کی ایک فہرست تیار کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیتی آیوگ نے فکی اور سی آئی آئی سمیت کئی اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ ان ایشوز پر بحث کی۔ اس کے بعد تقریباً 20 ایسے ہیلتھ مشینوں اور ان کے گھریلو تعمیر یا پروڈکشن کو بڑھانے کے متبادل کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔

نیشنل ہیلتھ پروفائل 2019 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت 11 لاکھ 54 ہزار 686 رجسٹرڈ ایلوپیتھک ڈاکٹر اور 7 لاکھ 39 ہزار 24 سرکاری اسپتال کے بیڈ ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ 130 کروڑ کی آبادی کے لیے صحت کا یہ بنیادی ڈھانچہ کتنا ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ نجی سیکٹر ابھی تک اس سارے مینجمنٹ کا حصہ نہیں ہے۔

وزارت صحت کے ذریعہ 17 مارچ تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں صرف 15980 آئسولیشن بیڈ اور 37326 کوارنٹائن بیڈ دستیاب ہیں۔ وبا کے پھیلنے کے تقریباً ڈھائی مہینے بعد ماہرین نے آگاہ کیا ہے کہ کمزور ہیلتھ انفراسٹرکچر کووِڈ-19 سے لڑائی میں سب سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ آئی سی ایم آر کی ایڈوانسڈ ریسرچ اِن وائرولوجی میں سابق سربراہ ڈاکٹر ٹی جیکب جان کا کہنا ہے کہ اس سب کو کافی کہہ دینا مناسب نہیں ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں صحت وسائل کا سامان تقسیم ہوا ہی نہیں ہے۔ ساتھ ہی ان کا معیار بھی ایک ایشو ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ہیلتھ سروس سے متعلق سبھی ادارے درمیانے درجے کے ہیں۔