ہندوستان اور پاکستان نے کرتارپور معاہدے پر دستخط کیے

کرتارپور صاحب گرودوارے تک کا گلیارا ہندوستانی زائرین کے لئے کھولنے کے سلسلے میں طویل عرصے سے معاہدے کا انتظار تھا، اس پر ہندوستان اور پاکستان نے آج دستخط کر دیئے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ڈیرا بابا نانک (گرداس پور): ہندوستان اور پاکستان نے سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی کے 550 ویں یوم پیدائش (پرکاش پرو) کے موقع پر کرتارپور صاحب گرودوارے تک کا گلیارا ہندوستانی سکھ زائرین کے لئے کھولنے کے سلسلے میں طویل عرصے سے معاہدے کا انتظار تھا، اس پر آج دستخط ہو گئے ہیں۔

ہندوستان کی جانب سے وزارت داخلہ میں جوائنٹ سکریٹری ایس سی داس اور پاکستان کی جانب سے فارن سروس کے افسر محمد فیصل نے مفاہمت نامے پر دستخط کر کے دستاویزوں کا تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نومبر کو ہندوستان کی جانب سے تیار کی گئی سہولیات کا افتتاح کریں گے۔ معاہدے کے تحت روزانہ کم ازکم پانچ ہزار سکھ عقیدت مندوں کو کرتارپور میں واقع گرودوارے میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ہندوستان کی طرف سے یہاں آنے والے عقیدت مندوں کی فہرست 10دن پہلے پاکستان کو فراہم کرانی ہوگی۔

پاکستان فہرست کی جانچ کر کے سفر سے چار دن پہلے اسے منظور کر کے ہندوستان کو مطلع کرائے گا۔ پاکستان نے ہندوستان اور غیر مقیم ہندوستانی شہری کارڈ یافتہ غیر ملکیوں کے لئے کرتارپور گرودوارے کے درشن کے لئے 20 ڈالر کی فیس لگائی ہے۔ ہندوسان نے بار بار اس سے اپیل کی تھی کہ وہ عقیدت مندوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فیس نہ لگائے لیکن پاکستان نے اس اپیل کو نہیں مانا۔

کرتارپور میں واقع گرودوارے میں بابا گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے اور ان کی 550ویں یوم پیدائش پر اس گلیارے کو کھولا جانا ہے جس سے ہندوستان کے سکھ طبقے کے لوگ درشن کے لئے آسانی سے وہاں جاسکیں۔

next