لداخ میں تعطل ختم کرنے کے لیے ہندوستان اور چین کے درمیان مذاکرات کا 13 واں دور

یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایل اے سی کے پار چینی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور 50 ہزار سے زائد پی ایل اے فوجیوں کو سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ہندوستان اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں تعطل ختم کرنے کے لیے اتوار کو چشول کے نزدیک لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے پار مولدو گیریژن میں کور کمانڈر سطح کے 13 ویں دور کے مذاکرات منعقد ہوئے ۔

تقریبا دو ماہ کے وقفے کے بعد ہونے والی بات چیت صبح 10.30 بجے شروع ہوئی اور شام تقریبا 1900 بجے ختم ہوئی ۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایل اے سی کے پار چینی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور 50 ہزار سے زائد پی ایل اے فوجیوں کو سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔


ہندوستان اور چین اب تک پینگونگ اور گوگرا کے علاقوں سے فوج اور ہتھیار کو ہٹا کر تنازعہ ختم کر چکے ہیں ، تاہم دیپسانگ اور ڈیمچوک علاقوں میں تنازعہ جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا 12 واں اور آخری دور 31 جولائی کو منعقد ہوا تھا جس کے بعد دونوں فریقوں کی فوجوں نے گوگرا سے انخلا کا عمل مکمل کیا۔

واضح رہے کہ موجودہ مذاکرات اتراکھنڈ کے بارہوٹی سیکٹر اور اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ دریں اثنا آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے نے ہفتے کے روز چینی فوجیوں کے جمع ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ وہاں ٹھہرنے کے لئے آئے تھے ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔