مودی حکومت کے خلاف حکمت عملی پر غور کے لیے انڈیا اتحاد کا اجلاس کل، 23 جماعتوں کی شرکت متوقع
نئی دہلی میں انڈیا اتحاد کا اہم اجلاس کل ہوگا جس میں 23 اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شریک ہوں گے۔ مودی حکومت کی پالیسیوں، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع ہے

نئی دہلی: مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے انڈیا اتحاد کا ایک اہم اجلاس کل 8 جون کو نئی دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کی پالیسیوں اور اپوزیشن کے آئندہ لائحۂ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے بتایا ہے کہ انڈیا اتحاد کے اس اجلاس میں 23 سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے مطابق بعض جماعتیں مختلف وجوہات کی بنا پر اس مخصوص اجلاس میں شریک نہیں ہو سکیں گی، تاہم وہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ عمل کی مخالفت میں اتحاد کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔
اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راؤت اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی جانب سے سپریا سولے سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کی توجہ خاص طور پر ممتا بنرجی پر مرکوز ہے، کیونکہ اپوزیشن کی سیاست میں ان کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شرکت اور اجلاس کے بعد سامنے آنے والے موقف کو اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جے رام رمیش نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث جمہوری اداروں اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیا جا رہا ہے اور ایسے اقدامات جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عام لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے مناسب مواقع نہیں مل رہے۔ کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کی بعض معاشی اور خارجہ پالیسیاں قومی مفادات اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں اور مختلف سیاسی نظریات کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کل ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن جماعتیں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور پارلیمانی و عوامی سطح پر مشترکہ اقدامات کے بارے میں اہم فیصلے کر سکتی ہیں۔
