کورونا ویکسین کی دو خوراک کے درمیان فاصلہ بڑھانے کو ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا خطرناک!

امریکی صدر کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ ’’فائزر جیسی ایم آر این اے ویکسین کی دونوں خوراک کے درمیان تین ہفتوں کا اور ماڈرنا کی دونوں خوراک کے درمیان چار ہفتوں کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

ہندوستان میں کورونا انفیکشن کی دوسری لہر کے درمیان کورونا ویکسین کی دو خوراک کے درمیان فاصلہ کو پہلی لہر کے مقابلے زیادہ بڑھا دیا گیا ہے جس پر بحث و مباحثہ کا دور ابھی تک جاری ہے۔ کئی رپورٹس میں یہ باتیں سامنے آئی ہیں کہ اس کا مثبت اثر لوگوں کی قوت مدافعت پر پڑے گا، لیکن اب امریکی صدر جو بائڈن کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا ایک الگ ہی نظریہ سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں ٹیکہ کاری خوراک کے درمیان بڑھائے گئے فاصلہ پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔ فاؤچی کا کہنا ہے کہ ویکسین کی دو خوراک کے درمیان فاصلہ بڑھانے سے لوگوں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھے گا۔

ڈاکٹر فاؤچی نے انگریزی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران مذکورہ خیال ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’فائزر جیسی ایم آر این اے ویکسین کی دونوں خوراک کے درمیان تین ہفتوں کا اور ماڈرنا کی دونوں خوراک کے درمیان چار ہفتوں کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ برطانیہ نے ٹیکہ کاری خوراک کے درمیان فاصلہ بڑھا دیا ہے۔ حالانکہ اس سے لوگوں میں انفیکشن کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ لوگوں کو صحیح وقت پر ٹیکہ دینا ضروری ہے۔‘‘ حالانکہ فاؤچی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سپلائی کا مسئلہ سامنے آنے پر اکثر دو خوراک کے درمیان فاصلہ بڑھانا ضروری ہو جاتا ہے۔


ڈاکٹر فاؤچی کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد مرکزی حکومت نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ’’کووی شیلڈ ویکسین کی دونوں خوراک کے درمیان اچانک فاصلہ بڑھنے سے لوگوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی منظرنامہ میں ویکسین کی خوراک کے درمیان فاصلہ کو کم کرنے کے لیے سائنسی مطالعہ کی ضرورت ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’دو خوراک کے درمیان فاصلہ بڑھانے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا گیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم نے خوراک کے درمیان فرق بڑھایا تو ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال رکھنا تھا جنھیں صرف ایک ہی خوراک مل پائی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیا گیا تاکہ کئی اور لوگوں کو پہلی خوراک مل پائے اور ان کی قوت مدافعت ایک حد تک بہتر ہو پائے۔‘‘

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ 13 مئی کو ہی کووی شیلڈ کی دونوں خوراک کے درمیان فاصلہ 6 سے 8 ہفتہ سے بڑھا کر 12 سے 16 ہفتہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مرکزی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بالکل سائنس پر مبنی ہے اور اس سے لوگوں میں انفیکشن کا اضافی خطرہ نہیں بڑھے گا۔ یہاں قابل ذکر یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت نے ویکسین کی دو خوراک کے درمیان کا فاصلہ دوسری مرتبہ بڑھایا ہے۔ اس سے پہلے دونوں خوراک کے درمیان فاصلہ 28 دن سے بڑھا کر 6 سے 8 ہفتہ تک کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔