کانگریس کے خلاف تحریک چلائی تھی کیا اس لئے پینشن ؟

لوک نائک جے پرکاش نارائن کی تحریک کانگریس حکومت کے خلاف چلائی گئی ایک سیاسی تحریک تھی ۔ اس میں حصہ لینے والوں کو پنشن دینا سرکاری خزانے کو اپنے حامیوں میں تقسیم کرنے جیسا ہے ۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کانگریس کے سنیئر لیڈر اور بہار کونسل کے رکن پریم چندر مشرا نے ریاست میں جے پی سینانیوں کو ملنے والی پنشن رقم میں اضافے کو نامناسب اور اسے سرکاری خزانے کا بیجا استعمال بتاتے ہوئے اس طرح کے منصوبوں کو فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مسٹر مشر نے کہاکہ لوک نائک جے پرکاش نارائن کی تحریک کانگریس حکومت کے خلاف چلائی گئی ایک سیاسی تحریک تھی ۔ اس میں حصہ لینے یا جیل گئے سیاسی کارکنان کو ہزاروں روپے بطور پنشن دینا ایک طرح سے سرکاری خزانے کو اپنے حامیوں میں تقسیم کرنے جیسا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ نہ صرف سرکاری رقم کا بیجا استعمال ہے بلکہ غلط روایت کی شروعات بھی ہے ، جسے فوراً واپس لینا چاہئے ۔


کانگریس لیڈر نے سوال کیاکہ 45 سال قبل کے تحریک کاروں کو آخر کب تک سرکاری خزانے سے پیسہ دیاجاتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب غریبوں ، معذوروں، خواتین ،بزرگوں کو فی ماہ محض 400 روپے ملنے والی پنشن کو بڑھانے کا مطالبہ کیاجاتاہے تو وزیراعلیٰ پیسے کی کمی کی بات کر کے منع کر دیتے ہیں لیکن جے پی سینانیوں کے نام پر اپنے حامیو ںکو فی ماہ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر 7500 روپے پنشن کے لئے پیسہ ہے ۔ یہ اپنے آپ میں کئی سوال کھڑے کرتاہے ۔

مسٹر مشرا نے کہاکہ کسی بھی ریاست میں حزب اقتدار کے لیڈران ، کارکنان اور حامیوں کو پنشن دینا کہیں سے بھی مناسب نہیں ہے ، بہار جیسی غریب ریاست کے خزانے سے فی ماہ کروڑوں روپے کو 45 سال قبل کی سیاسی تحریک میں حصہ لینے والوں کے مابین تقسیم کرنا ایک قسم کی لو ٹ اور بندر بانٹ کرنے کے مترادف ہے ۔


کانگریس لیڈر نے کہاکہ اس طرح کے پنشن پرروک لگنی ہی چاہئے اور اس مد میں خرچ ہورہی سرکاری رقم کا استعمال غریبوں ، دلتوں ، معذوروں ، مجبور بزرگوں، خواتین کو ملنے والی پنشن کی رقم میں اضافہ میں کیاجانا چاہئے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا جے پی تحریک کے آدرش اور مطالبات پورے ہوگئے ، اگر نہیں تو پھر پنشن کیوں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔