ہندوستان کے پہلے ’کھلونا میلہ‘ کا افتتاح، اب دنیا بھر میں پہنچے گا ہندوستانی کھلونا!

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں کھلونا صنعت میں بہت بڑی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ اس طاقت میں اضافہ کرنا، اس کی شناخت بڑھانا، خودکفیل ہندوستانی مہم کا بہت بڑاحصہ ہے۔‘‘

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: وزیراعظم نریندرمودی نے آج کہا کہ ملک کی کھلونا صنعت میں بہت بڑی طاقت چھپی ہوئی ہے اور اسے بڑھا کر اپنی شناخت قائم کرنے اور خودکفیل ہندوستان مہم میں بڑا تعاون دینا ضروری ہے۔ پی ایم مودی نے ہفتہ کو پہلے کھلونا میلہ کا ورچوئل افتتاح کیا۔ کورونا وبا کے سبب ملک میں پہلی بار منعقد یہ میلہ بھی مکمل طور پر ورچوئل ہے۔ وزیراعظم نے کہا۔ ’’آپ سبھی سے بات کرکے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں کھلونا صنعت میں کتنی بڑی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ اس طاقت میں اضافہ کرنا، اس کی شناخت بڑھانا، خودکفیل ہندوستانی مہم کا بہت بڑاحصہ ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ یہ کھلونا میلہ صرف ایک کاروباری یا معاشی پروگرام ہی نہیں ہے یہ ملک کی صدیوں پرانی کھیل اور خوشی کی ثقافت کو مضبوط کرنے کی ایک کڑی ہے۔ میلے میں کاریگروں اور اسکولوں سے لے کرملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ساتھ 30 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے ایک ہزارسے زائد افراد اپنی نمائش لگا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا،’’ آپ سبھی کے لئے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہونے جا رہا ہے جہاں آپ کھلونوں کے ڈیزائن، جدت طرازی، ٹیکنالوجی سے لے کر مارکیٹنگ پیکجنگ تک بحث ومباحثہ کریں گے اور اپنے تجربات شیئر بھی کریں گے۔ ٹاپ فیئر 2021 میں آپ کے پاس ہندوستان میں آن لائن گیمنگ انڈسٹری اور ای سپورٹ انڈسٹری کے ایکو سسٹم کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔

وزیر اعظم نے کہا، "کھلونوں کے میدان میں ہندوستان میں روایت بھی ہے اور ٹیکنالوجی بھی ہے، ہندوستان کے پاس کنسیپٹ بھی ہے اورکمپینٹینس بھی ہے۔ ہم دنیا کو ایکو فرینڈلی کھلونوں کی جانب واپس لے کرجاسکتے ہیں، ہمارے سافٹ ویئر انجینئر کمپیوٹر گیمز کے ذریعہ ہندوستان کی کہانیوں کو، ہندوستان کی جو بنیادی اقدار ہیں ان کہانیوں کو دنیا تک پہنچاسکتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود، 100 بلین ڈالر کے عالمی کھلونا بازار میں آج ہماری حصہ داری بہت ہی کم ہے۔ ملک میں 85 فیصد کھلونے بیرون ملک سے آتے ہیں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ پچھلے سات دہائیوں میں ہندوستانی کاریگروں کی، ہندوستانی وراثت کی جو ان دیکھی ہوئی، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوساتی بازار سے لے کر کنبے تک میں غیر ملکی کھلونے بھر گئے ہیں اور وہ صرف کھلونا نہیں آیا ہے، خیالات کا ایک بہاو ہمارے گھر میں داخل ہوگیا ہے۔ ہندوستانی بچے اپنے ملک کے جانبازوں، ہمارے ہیروز سے زیادہ باہر کے ہیروزکے بارے میں بات کرنے لگے۔ اس سیلاب نے، یہ بیرونی سیلاب نے ہماری مقامی تجارت کی ایک بہت ہی مضبوط زنجیر بھی توڑ کر رکھ دی ہے، کاریگر اپنی آنے والی نسل کو اپنا ہنر دینے سے پرہیز کر رہے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ بیٹے اس کاروبار میں نہ آئیں۔ آج ہمیں اس صورتحال کو بدلنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں کھیل اور کھلونوں کے شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانا ہے، ووکل فار لوکل ہونا ہے۔ اس کے لئے ہمیں آج کی ضروریات کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کے بازاروں کو، دنیا کی ترجیحات کو جاننا ہوگا۔ ہمارے کھلونوں میں بچوں کے لئے ہمارے اقدار، ثقافت اور تعلیمات بھی ہونی چاہیے، اور ان کی کوالٹی بھی بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سمت میں ملک نے بہت سے اہم فیصلے کیے ہیں۔ پچھلے سال سے کھلونوں کی کوالٹی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ درآمد شدہ کھلونوں کی ہر کھیپ میں نمونہ چیک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل کھلونوں کے بارے میں حکومتیں بات کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتی تھیں۔ اسے سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب ملک نے کھلونا صنعت کو 24 بڑے شعبوں میں اس کا درجہ دیا ہے۔ قومی کھلونا ایکشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے جس میں 15 وزارتوں اور محکموں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ یہ صنعتیں مسابقت پذیر بنیں، ملک کھلونوں میں خود کفیل بنے اور ہندوستان کے کھلونے پوری دنیا میں بھی جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔