یوگی حکومت میں گئو رکشا کے تمام دعوے فیل، گئوشالہ میں 35 گایوں کی دردناک موت

یوگی حکومت ظاہری طور پر گئو رکشا کو لے کر بے شمار کوششیں کر رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت بہت الگ ہے۔ پریاگ راج کے کاندی گاؤں میں ایک ساتھ 35 سے زائد گایوں کی موت ہو گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

یوگی حکومت گایوں کی حفاظت کے لیے کئی انتظامات کر چکی ہے اور کئی منصوبے قطار میں بھی ہیں۔ گایوں کو سہولت دینے کے لیے یوگی حکومت نے ٹیکس بھی لگایا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لے جانے کے لیے سرٹیفکیٹ لینا لازمی کیا جا رہا ہے۔ ان سب کے باوجود یوگی راج میں ایک ساتھ 35 گایوں کی موت کے سبب ہنگامہ مچ گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یوگی حکومت کی ’گئو رکشا‘ پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔

دراصل اتر پردیش میں یوگی راج میں انتظامیہ کی بڑی لاپروائی سامنے آئی ہے۔ پریاگ راج کے بہادر پور بلاک کے کاندی گاؤں واقع گئوشالہ میں 35 گایوں کی موت ہو گئی ہے۔ گئوشالہ میں نہ تو شیڈ ہے اور نہ ہی کوئی صاف صفائی کا انتظام۔ گئوشالہ سے پانی نکلنے کا بھی انتظام نہیں ہے۔ خبروں کے مطابق زبردست بارش کے بعد گئوشالہ میں پانی جمع ہو گیا تھا۔ سبھی گائیں کیچڑ میں پھنس گئی تھیں۔ حالانکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گایوں کی موت کی وجہ بجلی گرنا ہے۔

مقامی لوگوں کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ گئوشالہ میں گایوں کے رکھ رکھاؤ اور کھانے پینے سے متعلق مناسب انتظام نہیں تھے۔ گرام پردھان نے تالاب کو گئوشالہ میں بدلا تھا اور پچھلے 3 دنوں سے ہو رہی بارش کے سبب گئوشالہ میں پانی بھرنے اور گندگی کے سبب 35 گایوں کی موت ہوئی۔

خبروں کے مطابق گئوشالہ کے اندر کی تصویریں بے حد حیران کرنے والی ہیں، جن میں مرنے والی گایوں کو گڈھے میں دھکیل کر پاٹا جا رہا ہے۔ جو گائیں زندہ بچی ہوئی ہیں ان کے علاج کی جگہ ان پر چادر ڈال دی گئی ہے۔

دوسری طرف انتظامیہ کے دعووں پر بھی مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے۔ دیہی لوگوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بجلی گرتی تو یہاں کے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا؟ اگر بجلی گرتی تو 35 نہیں بلکہ پانی میں سارے جانور مر گئے ہوتے۔