پونے ایم ایل سی انتخاب میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بی جے پی کو دیا دھچکا، آزاد امیدوار کی حمایت کا اعلان
پونے میں نوراتری کے ایک پروگرام میں شندے نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ان کی پارٹی شیوسینا نے پونے ٹیچرس حلقۂ انتخاب سے آزاد امیدوار سچن سانپ کو کھلی حمایت دی ہے۔

مہاراشٹر کے پونے ایم ایل سی انتخاب کے پیش نظر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ایک فیصلہ نے بی جے پی کو زوردار دھچکا دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اُدے سامنت کے او ایس ڈی اور پونے ٹیچرس حلقۂ انتخاب سے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے انتخاب میں آزاد امیدوار سچن سانپ کو کھلی حمایت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ سچن سانپ پونے ٹیچرس حلقۂ انتخاب سے آزاد امیدوار ہیں۔ کئی دنوں سے جاری تجسس کے بعد آخرکار ایکناتھ شندے نے اپنی خاموشی توڑ دی۔ سچن کا مقابلہ بی جے پی کے امیدوار کوستبھ گاوڈے سے ہے۔
شندے کی شیوسینا کل سے سچن سانپ کی انتخابی مہم شروع کرے گی۔ بی جے پی امیدوار کوستبھ گاوڈے کے خلاف آزاد امیدوار سچن سانپ کی حمایت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے رویے سے ایکناتھ شندے ناراض چل رہے تھے۔ شندے کے اس رویے سے مہایوتی اتحاد کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ حالانکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا ماننا ہے کہ حکمراں مہایوتی اتحاد قانون ساز کونسل کے انتخاب میں پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چند نشستوں کو چھوڑ کر پورا اتحاد مل کر یہ انتخاب لڑ رہا ہے۔ پونے میں نوراتری کے ایک پروگرام میں شندے نے تصدیق کی کہ ان کی پارٹی شیوسینا نے پونے ٹیچرس حلقۂ انتخاب سے آزاد امیدوار سچن سانپ کو کھلی حمایت دی ہے۔
واضح رہے کہ پونے گریجویٹس، ناگپور گریجویٹس، چھترپتی سنبھاجی نگر گریجویٹس، پونے ٹیچرس اور امراوتی ٹیچرس حلقۂ انتخاب کے لیے 23 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو ہوگی۔ متعلقہ حلقہ ہائے انتخاب میں رہنے والے رجسٹرڈ گریجویٹس اور اساتذہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
اس درمیان خشک سالی کے دوران کسانوں کو دی گئی مدد پر اپوزیشن کی تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پر شندے نے کہا کہ ان لیڈروں کے پاس حکومت پر تنقید کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ شندے نے کہا کہ ’’پہلے انہوں نے خشک سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب جب حکومت نے خشک سالی کا اعلان کر دیا ہے تو وہ حکومت پر ہی تنقید کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کسانوں کو 5,000 روپے کی پیشگی رقم دینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھا رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو سیاست کو ایک طرف رکھ کر اس بحران کے وقت کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
