مبینہ ’دھرم سنسد‘ کے نام پر مسلمانوں کو قتل کی دھمکی، ملک کو توڑنے کی سازش: ڈاکٹر ایوب سرجن

پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں ہریدوار کی مبینہ ’دھرم سنسد‘ میں دیئے گئے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو آئیں مخالف و ملک توڑنے والا قرار دیا

ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں ہریدوار کی مبینہ ’دھرم سنسد‘ میں دیئے گئے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو آئیں مخالف و ملک توڑنے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دستور بچانے کے لیے جدوجہد اور حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے، مگر کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو قتل کی دھمکی دے کر ملک توڑنے کی کوشش کرنے والوں پر حکومت و ایجنسیاں خاموش ہیں۔

ایوب سرجن نے کہا کہ آج ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی قانونی کارروائی بیان دینے والے فسطائی طاقتوں کے خلاف نہیں کیا جانا، یہ ثابت کرتا ہے کہ انتخاب کے سبب ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کی نیت سے زیر اقتدار بی جے پی کی سازباز سے ایک منظم سازش کے تحت بیان دیا گیا ،جس کے سبب حکومت و ایجنسیاں خاموش ہیں ،اور آئین و جمہوریت کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف کوئ کارروائ نہ کر ان کی جیسے حوصلہ افزائ کی جارہی ہے ، جو ملک کے لیئے بہتر نہیں ہے۔


ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ انتخاب کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا ہے ،ویسے ویسے فسطائ طاقتوں کا بیان جمہوریت ،آئین اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف آنا شروع ہوگیا ہے ۔بی جے پی کے تئیں عوامی اشتعال کو دیکھتے ہوئے اس کی حامی فسطائ طاقتیں اس حد پر اتر آئ ہیں کہ وہ کھلے عام مسلمانوں کے قتل کے لیئے ہندووں کو اکسانے کا کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ صوبہ کے ہری دوار میں نام نہاد مذہبی شخصیتوں کے ذریعہ ایک مبینہ دھرم سنسد کا اہتتمام گزشتہ روز کیا گیا تھا ،جہاں مسلمانوں کے قتل کی دھمکی اور ہندووں کو ہتھیار اٹھانے کے لیئے اکسایا گیا ، یہ بیان ملک توڑنے والا ہے ،جس پر مذکورہ صوبہ کی بی جے پی حکومت نے کوئ قانونی کارروائ نہیں کی۔ اگر آج اس طرح کا بیان کسی اور کا آیا ہوتا تو اس کو غدار ثابت کر جیل کی سلاکھوں کے پیچھے پہونچا دیا گیا ہوتا، لیکن حکومت و سلامتی ایجنسیاں خاموش تماشائ بنی ہوئ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ کیا ملک توڑنے والا بیان دینے والے آئین و قانون سے اعلی ہیں ،اگر نہیں تو ان کے خلاف کارروائ کیوں نہیں کی جارہی ہے، اس کے برعکس قانون و آئین کی دھجیاں اڑانے والے فسطائ طاقتوں کے خلاف کارروائ نہیں کر حکومت ان کی حوصلہ افزائ کر رہی ہے ۔ بی جے پی میں اگر ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو ایسے ملک توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائ کر یہ ثابت کرے کہ ملک کا قانون و آئین سب سے اعلی ہے۔ یہ ملک سبھی کا ہے، کسی کو دہشت پھیلانے کی آزادی نہیں ہونی چاہیئے ۔انہوں نے حکومت سے ملک ٹوڑنے والا بیان دینے والوں کے خلاف سخت کارروائ کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔